Subscribe:

Friday, December 16, 2011

کراچی میں ابو عمر شہید رحمہ اللہ کا بدلہ


قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ
التوبة : 14
"ان سے (خوب) لڑو۔ اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا۔"
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبيه الكريم وعلى آله وصحبه أجمعين.أما بعد:
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے تحریکِ طالبان پاکستان کے مجاہدشیروں نے کراچی شہر کے علاقہ گلستان جوہر میں پیراملٹری اسپیشل سیکورٹی فورسز"رینجرز"کی موبائل گاڑی کوبارودی سرنگ سے تباہ کردیا۔
یہ جہادی کارروائی اس مجاہد بھائی عبدالمعید بن عبدالسلام "ابوعمر" ــــ اللہ ان کوقبول فرمائے ــــ کاانتقام اوربدلہ لینے کے لیے کی گئی جو اسی علاقے میں اس وقت شہیدہوئے جب مرتد فوجیوں نے ان کے گھر پر دھاوابولاتھا۔
اس مبارک کارروائی سے موبائل گاڑی مکمل طور پرتباہ ہوگئی اورپاکستانی مرتد رینجرزفورسزکے تین فوجی مردارہوئے اورچارفوجی شدیدزخمی ہوگئے۔
ہم اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ مجاہدین نے پاکستانی نظام اوران کی ظالم فورسزکے جرائم کو بھلایا ہے نہ کبھی بھلائیں گے۔ پاکستانی نظام اوران کی ظالم فورسز اب تک اسلام اورمجاہدین کیخلاف جنگ کو جاری رکھنے پرتلی ہوئی ہیں۔یہ صلیب اورامریکیوں کی مدد کرنے اور کفر وشرک کے جھنڈے کو بلندکرنے کے لیے طاغوت کی راہ میں لڑنے میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ مساجد اور مدارس کو شہید کرنے، اللہ کی زمین پراللہ کی شریعت کے نفاذکا مطالبہ کرنے والے مسلمانوں کیخلاف فوجی کارروائیاں کرنے، رات کے اندھیروں میں ان کے گھروں پردھاوے بولنے، پرامن شہریوں کو خوفزدہ کرنے، ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو ان کے اہل و عیال کے درمیان سے اچک لے جانے، انہیں اپنے عقوبت خانوں کے اندھیروں میں پھینک کر سخت اور تند خوجلادوں کے تشدد کے حوالے کرنے،مسلمانوں کے گھروں پر بمباریاں کرنے، ان کے اموال کی لوٹ کھسوٹ کرنے، ان کی عزتوں کو پامال کر نے اورہر اس سچے اور مومن شخص کے تعاقب کرنے میں مصروف ہیں جس نے اپنی زندگی اسلام اورمسلمانوں کی مدد کے لیے وقف کررکھی ہے۔
پس ان وجوہات کی بناپر ہم تحریک طالبان پاکستان والے اللہ کے دشمنوں کیخلاف بغیرکسی تھکاوٹ اور سستی کے جہادوقتال کو جاری رکھیں گے۔اسی طرح ہم پاکستانی حکومت، پولیس، فوج، سیکورٹی ایجنسیوں اوراسلام کیخلاف جاری اس حملے میں صلیبیوں اور مرتدین کی مدد کرنے والے ہرشخص کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔اس ذات کی قسم جس کے سواکوئی معبود نہیں! اے اللہ کے دشمنوں! ہمیں اس وقت تک سکون نہیں ملے گا اور نہ ہم چین سے بیٹھیں گے جب تک ہم تمہارے ہاتھوں سے گرنے والے مسلمانوں کے شہداء کے ہر خون کے قطرے کا انتقام نہیں لے لیتے،جب تک ہم تمہاری ظالمانہ جیلوں میں قیدتمام مسلم نوجوانوں اور مسلم عورتوں کو رہا نہیں کرالیتے، جب تک ہم اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کا انتقام نہیں لے لیتے،جنہیں تم نے بے گھرکیا،ان کی عزتوں کو پامال کیا،انہیں بے پردہ کیااورانہیں بغیر کسی ٹھکانے اور پناہ گاہ کے دربدرکیا،محض اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگارصرف اللہ ہے اوراسلام ومجاہدین کی مدد کی۔
ہم یہاں پراللہ کے نیک اولیاء سے لڑنے والے خبیثوں کیخلاف جہاں جہاد جاری رکھنے کی بات کرتے ہیں، وہاں ہم پاکستانی مسلم غیور عوام کوایک بار پھراس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ ہمارے تمام اہداف اور کارروائیاں بالکل واضح ہیں اور تمام کی تمام سلف صالحین کے فہم کے مطابق کتاب وسنت سے اخذکردہ ہیں۔ہم کبھی بےگناہ شہریوں کونشانہ نہیں بناتے ۔ہمارا ان تمام بم دھماکوں کی کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں جو کراچی میں یا کسی اورجگہ پرسویلین اہداف اورپبلک مقامات پرعام مسلمانوں کیخلاف ہوتی ہیں۔ہم مسلمانوں کے سامنے یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ان تمام گھٹیا کارروائیوں کا اول ذمہ دار اِن طواغیت کوسمجھتے ہیں جواس طرح کی کارروائیاں ان ناکام کوششوں کے لیے کررہے ہیں کہ جہادکوبدنام کرسکیں،مجاہدین کومسلم پاکستانی عوام سے الگ تھلگ کرسکیں،طالبان کی دن بدن بڑھتی ہوئی مقبولیت اور حمایت کو کم کرسکیں اورشریعت کامطالبہ کرنے والے مؤمنین کیخلاف جاری جنگ کے لیے رائے عامہ کی حمایت حاصل کرسکیں ۔
اس لیے ہم پاکستان کے مسلمانوں سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان کے خبیث منصوبوں کو ناکام بنائیں، مجاہدین کی حمایت اورہر طریقے سے ان کی مددکرنے اور ان کے لیے دعائیں کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں،اپنے ہاتھوں کو مجاہدین کے ہاتھوں میں دیں، ناامیدوغم زدہ اور کمزور مت پڑیں ،اللہ کے دشمنوں اوراس کافرنظام اوریہودونصاری کی ایجنٹ ان مرتدسیکورٹی ایجنسیوں کیخلاف انقلاب برپاکریں اوران مجرموں کیخلاف مجاہدین کے ساتھ مل کر ایک بازو بن جائیں جن کا اپنے امریکی صلیبی آقاؤں کے ساتھ اللہ کے حکم سے زوال پذیرہونے کا وقت قریب آپہنچا ہے۔ پس امتِ اسلام کے لیے خوشخبری ہے اور اسے فتح وکامرانی کے اس وعدے پر پورابھروسہ رکھنا چاہئے جو اللہ تعالی نے کررکھاہے۔پس کامیابی اورسپیدۂ سحر کا وقت اللہ کے حکم سے قریب ہے۔ رات کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہوجائے،بالآخر اسلام کی صبح طلوع ہونے والی ہے۔
ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ(اے اللہ!)مسلمانوں کے شہداء کو قبول فرما،ان کے زخمیوں کوشفا نصیب فرما،ان کے قیدیوں کورہائی دلوا،اپنے مجاہدبندوں کی کافروں،صلیبیوں اور مرتدین پرمددفرما اورخلافت اسلامیہ کے دوبارہ آنے کو ممکن بنا۔بیشک تو ہی اس کانگہبان اوراس پر قدرت رکھنے والا ہے۔
وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم.
﴿وَ لِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾
سنو! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے رسول کے لئے اور ایمانداروں کے لئے ہے لیکن یہ منافق جانتے نہیں۔ (المنافقون: ۶٣)
مرکزی اِدارہ برائے نشرواِشاعت
تحریکِ طالبان پاکستان


1 تبصرے:

Behna Ji said...

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الحمد لللہ بہت خوشی کی خبر ہے۔ظالم بے شک فلا ح نہیں پاتے۔
--------

شیروں نے آج تک کوئی فوج تیّار نہیں کی ۔۔ کسی کُتّے نے آج تک

دوسرے کُتّوں کو غلام نہیں بنایا ۔۔ کسی مینڈک نے دوسرے مینڈکوں

کی زبان بندی نہیں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ انسان ھی ھے جس نے اللہ تعالٰی کی ھدایات سے بے نیاز ھو کر

جب اُس کی دی ھوئی قوّتوں سے کام لینا شروع کیا تو اپنی ھی

جنس پر ظلم ڈھانے شروع کر دیئے ۔۔ جب سے انسان اس زمین پر

موجود ھے اُس وقت سے آج تک تمام حیوانات نے اتنے انسانوں کی

جان نہیں لی ھے جتنی انسانوں نے صرف دوسری جنگِ عظیم میں

انسان کی جان لی ھے ۔۔

اس سے ثابت ھوتا ھے کہ انسان کو فی الواقع دوسرے انسانوں کے

بنیادی حقوق کی کوئی تمیز نہیں ھے ۔۔ صرف اللہ ھی ھے جس نے

انسان کی رھنمائی اِس باب میں کی ھے اور اپنے پیغمبروں کی

وساطت (ذریعے) سے انسانی حقوق کی واقفیت بہم پہنچائی ھے ۔۔

در حقیقت انسانی حقوق متعیّن کرنے والا انسان کا خالق ھی ھو

سکتا ھے اور اُس خالق نے انسان کے حقوق نہایت تفصیل سے بتائے ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(سیّد ابوالاعلٰی مودودی رح ، از تفہیمات-3 )

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ