Subscribe:

Saturday, December 17, 2011

اسلام کے سوا کچھ نہیں

اسلام کے سوا کوئی بھی پاکستان  کوزوال پذیر  ہونے سے  نہیں بچاسکتا

ازقلم: صلاح الدین غزنوی

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمد ﷲرب العالمین۔ والصلاة والسلام علی أفضل الأنبیاء والمرسلین، سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین.

پاکستان اس وقت اپنی بداعمالیوں اورسیاہ کاریوں کی وجہ سے بدامنی،بے چینی،غربت وفقر،قتل وغارت،چوری،ڈاکے،لوٹ مار،غم،دکھ،مہنگائی، کرپشن،بجلی کی لوڈشیڈنگ،ڈرون حملوں، عالمی یلغار،صلیبی قبضے، امریکی غلامی،بھارتی ثقافت اور ہندوکلچرکی بدترین پیروی ،ظالم وجابر حکمرانوں کے تسلط،سرکش وباغی  ناپاک فوج اوراس کی ایجنسیوں کے ہاتھوں میں ملک کی باگ دوڑ ، بدکردار تنظیموں اورجماعتوں کی سیاسی وفکری غلامی،ڈینگی وائرس ،  زلزلے، طوفانی بارشوں اورسیلابوں سمیت مختلف  مصائب  کے گرداب میں بُری طرح پھنس چکا ہے اور دن بدن پھنستا چلا جارہا ہے۔
یہ سب کچھ پاکستان کا اپنا کیا دھراہے ۔ پاکستان آج انہی  کڑوے بیجوں کا  پھل کھانے پرمجبور ہے جواس نے اسلام واہل اسلام سے دشمنی اور امریکہ وعالم کفرکی غلامی  مول لے کر بوئے تھے ۔پاکستان کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اورجوقدرتی آفات ومصائب اس پر نازل ہورہی ہیں،وہ  سب اس کے اپنے   کرتوتوں اورسرکشی کا نتیجہ ہے۔اللہ تعالی نے پاکستان پر ظلم نہیں کیااور نہ اللہ تعالی کسی پر ظلم ہی کرتا ہے۔چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ﴾
’’بلاشبہ اللہ کسی پر  ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا۔ ‘‘ (النساء4: 40)
اسی طرح  اللہ رب العزت نے ایک اور مقام پرفرمایا:
﴿مَّا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِيمًا﴾
’’اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ، اور اللہ  قدر شناس  ،خوب جاننے والا ہے۔‘‘ (النساء4: 147)
اللہ تعالی تو بخشنے اورمعاف کرنے والاہے لیکن جب  لوگ  سرکشی پر اتر آئیں  اور  حدسے تجاوز کرنے لگیں  تب اللہ تعالی  ان کو بغاوتوں اورنافرمانیوں  کے سبب بعض اعمال کامزہ چکھاتا ہے۔اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتاہے:
﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾
’’خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ اُن کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ  وہ باز آ جائیں۔‘‘ ( الروم30 :41 )
یہ اللہ تعالی کی رحمت ہے کہ  وہ انسانوں کو ان کے سارے گناہوں کی سزا فورا نہیں دیتا بلکہ  انہیں ان کے بعض گناہوں  کی سزادیتا ہے تاکہ وہ ڈرجائیں اور گناہوں کو ترک کرکے واپس اللہ کی طرف  پلٹ آئیں۔
پاکستان کو آج اپنے کیے کی سزا مل رہی ہے۔پاکستان اسلام  سے دشمنی جاری رکھنے کے باوجود یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ  دعائیں اورتوبہ واستغفار کے چند کلمات کہہ کر اللہ تعالی کو راضی کر لے گا تو یہ اس کی بھول ہے۔ کیونکہ  اللہ تعالی کسی ظالم کوصرف زبانی دعائیں مانگنے سے معاف نہیں   کرتا۔ بلکہ ہر ظالم پرواجب ہے کہ وہ سب سے پہلےاپنے ظلم کوروکے اورمظلوم سے معافی مانگ کراس کے غصب شدہ حقوق اسے واپس کرے۔پھراس کے بعداپنی بداعمالیوں پرسچے دل کے ساتھ اللہ سے معافی مانگتے ہوئے ان نیک اعمال کو بجالائے جن کے خلاف اس نے ظلم اور گناہ کاارتکاب کیا تھا۔ تب اللہ تعالی اسے معاف کرکے اس پر اپنی رحمتوں کی بارش کرتاہے اوراس کا مددگار بنتا ہے۔
پاکستان نے یہ سب کچھ نہیں کیا اور نہ  مجاہدین ومظلوم مسلمانوں سے معافی مانگ کر اللہ کے نظام ِ شریعت ہی کو نافذکیا بلکہ پاکستان کی حالت تواس قدرابترہے کہ وہ ان آفات اور مصیبتوں کودیکھ کر مزید سرکشی وطغیانی کی طرف بڑھا ہے اوران اعمال کوکرنے میں لگاہواہے جن کی وجہ سے عذاب ٹلتے نہیں بلکہ مزیدآتے ہیں۔
قبائلی علاقوں میں فوجی  آپریشن کے حوالے سے امریکہ اور پاکستان کے مابین کشیدگی کا ڈھونگ رچا کر مجاہدین کےخلاف ان علاقوں میں فوجی آپریشن تیز کرنا،اندھادہندفضائی بمباریاں کرنا،مزیدچوکیاں قائم کرنا اور جاسوسی کے نیٹ ورک بچھا کر یہ پروپیگنڈہ شروع کردینا کہ پاکستان نے امریکہ کی غلامی چھوڑدی ہے اورقبائلی علاقوں میں گھسنے والے امریکی طیاروں کو ماربھگانے کی کوشش کررہا ہے ۔۔۔ یہ سب باتیں اس کی سرکشی اورفریب کاری کی منہ بولتی تصویریں ہیں!   
پاکستان کے اس ڈرامے کوناپاک فوج کے غلام مقامی  میڈیا اورسیاسی ومذہبی جماعتوں نے  تقویت دینے کے لئے اپنی پوری توانائی خرچ کی اورپاکستانی عوام کو یہی باورکرانے کی کوشش کی کہ اب ناپاک فوج نے  گیدڑ کی طرح امریکہ کے سامنے سراٹھانا شروع کردیاہے۔ایسا کرتے ہوئے انہوں نے ایک باربھی یہ نہیں سوچاکہ عوام  بھی ہوش کے ناخن لے سکتی ہے ۔اگراس  نے تھوڑی سوچ بچار کرکے حقائق جان لئے تو ان کے سارے معاملے کی قلعی کھل جائے گی۔
 پاکستانی قبائلی علاقوں میں جہاں  اسلام کے نفاذکامطالبہ  کرنے والوں کےخلاف امریکہ اپنے طیاروں سے فضائی فوجی  آپریشن کررہا ہے ،وہاں ناپاک فوج اور اس کی ایجنسیاں ان کے خلاف زمینی فوجی آپریشن کرکے انہیں شہیدوگرفتارکررہی ہیں ۔ ناپاک فوج  مسلمانوں کےخلاف  مخبری اور جاسوسی کرکے تمام معلومات صلیبی طیاروں کوفراہم کرکے منتخب شدہ مسلمانوں کے گھروں  اور گاڑیوں پر بمو ں کی بارش کرنے کا سگنل دیتی ہے۔امریکہ اور ناپاک فوج کے سربراہوں اورکمانڈروں کے درمیان مکمل رابطے ہیں اور وہ مجاہدین اسلام کی سرکوبی کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ ہرقسم کاتعاون کرتے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ ناپاک فوج کے افسران وجرنیل جہاں امریکہ جاکر کفرکے لئے اسلام کے خلاف جنگ لڑنے کی تربیت اورٹریننگ  لےکرآتے ہیں،وہاں تمام ہدایات اور احکامات بھی ان یہودونصاری سے ملاقاتوں اور سرکاری دوروں کے  دوران  لیتے ہیں ۔اگر احکامات میں کوئی کمی باقی رہ جائے تواسے اسلام آباد میں  بیٹھا ہواامریکی سفیر پوری کردیتاہے،جو پورے پاکستان کانظام وکنٹرول چلاتاہے اورناپاک فوج اور اس  کی ایجنسیوں کو اپنی انگلیوں کے اشاروں  پر نچاتاہے۔
ان  حقائق کی جھلکیاں  آئے دن خبرناموں اور اخبارات کے ذریعے سے منظرعام پر آتی رہتی ہیں،لیکن پاکستانی عوام ان جھلکیوں سے   سچائی کی معرفت حاصل کرنے کی بجائے شخصیات، تنظیموں اور سرکاری میڈیا کی طرف دیکھتی ہے اور وہاں سے جوکچھ ملے،اسے ہی سچ وحق جان کر مجاہدین اور القاعدہ وطالبان کومختلف القابات اورالزامات سے نوازتی رہتی  ہے۔
پاکستانی عوام کی اس کمزوری اوراسلامی عقیدہ سے دوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی ایجنسیوں نے اپنے ڈرامے میں رنگ بھرنے کے لئے میڈیا پر کچھ ایسی خبریں چلائیں جن سے یہ تاثرملےکہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کےخلاف کارروائی کرنے سے انکار کردیا ہے اور قبائلی علاقوں میں گھس جانے والے نیٹو کے طیاروں پر مارٹر گولے داغ کر انہیں بھاگنے پر مجبور کردیاہے۔
اس ڈرامے نے وقتی طور پر پاکستانی عوام کو بیوقوف بنایا،لیکن سچائی کے متلاشیوں نے اس ڈرامے کی حقیقت کو شروع ہی میں خبروں پر غور کرکے پہچان لیاتھا۔اس مضحکہ خیز ڈرامے کو ناپاک فوج نے سنگین اور حساس بنانے کی پوری کوشش کی،لیکن پھر بھی اللہ تعالی نے ان کے اس مکروفریب کو انہی کی زبانی تمام دنیا پر عیاں کردیا۔ ناپاک فوج نے اپنی خبروں میں دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستانی قبائلی علاقوں میں گھس جانے والے امریکی اور نیٹو طیاروں کو مارٹر گولوں  سے ماربھگایا۔
اس خبر نے جہاں ناپاک فوج کی بزدلانہ جراٴت کو بے نقاب کیا،وہاں  یہ ثابت کردیا کہ ناپاک فوج امریکہ وصلیب کے لئے اپنی دائمی غلامی کو چھپانے کی خاطر فرضی  کارناموں  اورکاغذی بہادری پر مشتمل کہانیوں کوگھڑنے کے لئے کسی بھی حدتک جاسکتی ہے۔اب اگر کوئی ناپاک فوج  کی اپنی ہی خبر میں موجود اس گیدڑانہ کارنامے کا جائزہ لے تو اسے پتہ چل جائے  گا کہ مارٹر گولے تو صرف تقریباًچارتاپانچ کیلو میٹر تک زمین پرموجود ساکن ہدف کوبغیر صحیح نشانے کے اندازے سے  ضرب لگاتے ہیں۔لیکن ناپاک فوج نے زمین کے اہداف کو نشانہ بنانے والے محدودصلاحیت کے ہتھیار کے چند گولوں سے فضا میں موجودجدید اسلحے اوربموں سے لیس نیٹو اور امریکی طیاروں پر  فائر کرکے انہیں بھاگنے پر مجبور کردیا!اس سے بڑا مسخرا پن، ڈرامہ اور مضحکہ خیزدعوی کوئی نہیں ہے ،لیکن  عقل،شعور اور سچائی سے عاری اس ڈرامے نے  ایک کاغذی کہانی گھڑنے میں ناپاک فوج کو بہت مدد دی،جس کی بنا پر ناپاک فوج کا دم بھرنے والے صحافیوں،کالم نگاروں،مذہبی وسیاسی جماعتوں کے قائدین ورہنماوٴں اورمختلف چینلوں کے ٹی وی اینکرزنے اس بہادرانہ کارنامے پرناپاک فوج کی تعریف میں زمین وآسمان کو ایک کردیا اوراس کے تمام جرائم کو بھلاکرصلیبیوں کے لئے تن من دھن قربان کردینے والی ناپاک فوج کو امریکہ کو آنکھ دکھانے والا اپنا ہیروبنالیا۔
اس ڈرامے میں ابھی پوری طرح سے رنگ نہیں بھراگیا تھا کہ  امریکہ سے  دشمنی مول لینے اورنیٹوطیاروں کا مقابلہ کرنے کے لئے قبائلی علاقوں میں ناپاک فوج کی طرف  سے کی جانے والی فوجی سرگرمیوں کی حقیقت ایک بار پھر کھل کراس وقت سامنے آئی  جب خیبرایجنسی میں ناپاک فوج نے چند گھنٹوں میں ہی مقامی مسلمانوں کےخلاف فوجی آپریشن شروع کرکے ہزاروں لوگوں کو بے گھر اور اسلام ومجاہدین سے محبت رکھنے والوں کو چن چن کر گرفتارکرنے کا سلسلہ شروع کردیا ۔
ناپاک فوج کے اس جرم نے تمام ڈرامے کی حقیقت کھول کررکھ دی اور ایک بار پھر یہ ثابت کردیا کہ پاکستانی حکومتی ادارے اوران کی ایجنسیاں امریکہ کے آگے دم مارنا تو دورکی بات ہے اُف بھی نہیں کرسکتے ۔قومی سیاست کے میدان میں اورمیڈیا پرپاکستان اور امریکہ مل کرجو ڈرامہ رچارہے ہیں،وہ پاکستانی عوام کو دھوکہ دینے اور قبائلی علاقوں میں اسلام کے خلاف جاری جنگ میں ان  کی حمایت  وتائید حاصل کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔
اس حقیقت کے منظر عام پر آنے کے باوجودبھی آئی ایس آئی، ناپاک فوج،پیمرا کی زنجیروں میں جکڑاہوا میڈیا،ایجنسیوں کے آگے دم مارنے والی سیاسی اور مذہبی تنظیمیں (تحریک انصاف،مسلم لیگ،جمعیت اہل حدیث،جماعت اسلامی،جماعۃ الدعوۃ،جمعیت علمائے اسلام،پیپلزپارٹی،سنی اتحاد کونسل،عوامی نیشنل  پارٹی) ابھی تک پاکستانی عوام کو دھوکے میں مبتلا کرنے میں لگی ہوئی ہیں اوردفاع وطن،بچاؤپاکستان،تحفظ پاکستان اور استحکام پاکستان کے نام پرپاکستانی حکومتی کفری نظام کا تحفظ اور ناپاک فوج کے سامنے مسلمانوں کےخلاف امریکی جنگ لڑنے کی راہ ہموار کررہی ہیں۔پاکستانی عوام کی پاکستانی قبائلی سرحدی علاقوں میں ناپاک فوج کی جانب سے ہونے والےفوجی آپریشن سے  نظریں ہٹانے کے لئے امریکہ سے فرضی دشمنی اور تعلقات خراب کرنے کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔دوسری طرف امریکہ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آپ ڈرون حملے کرنے کی زحمت نہ کریں اوران حملوں کو بند کریں ۔ہم خود ہی آپ کے دشمن مجاہدین کےخلاف مذہبی وسیاسی  تنظیموں پرمشتمل نیاعوامی حمایت یافتہ اوراعتدال پسنداتحادقائم کرکے اورمقامی قبائلی لشکرتشکیل دے  کرلڑیں گےاوران کی سرکوبی وتعاقب کے لئے ناپاک فوج خود ہی فوجی آپریشن کرے گی۔آپ کافروں کا مشن پہلے سے زیادہ تیز اور وسیع پیمانے پرہم کریں گے اورپاکستان میں کبھی بھی اسلام کا عملی نفاذ نہیں ہونے دیں گے۔اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں  امریکہ واقوام متحدہ اوریورپی یونین کے کفری قوانین کےنفاذکو جاری رکھ کر پاکستانی  عوام پر یہودونصاری کی بالادستی کوبرقراررکھیں گے۔  بس آپ کا کام اتنا ہے کہ  خاموشی سے بیٹھ  کرمسلمانوں کو ملیامیٹ کرنے کے لئے  انجام دی جانے والی ہماری خدمات کا نظارہ کریں اورلطف اندوزہوکرخوشی کے ساتھ ہمارے اوپر اپنی رحمت وکرم اور ڈالروں کی بارش کریں۔
ناپاک فوج اور اس  کی ایجنسیاں اپنے  گیت گانے والے  لوگوں ،ذرائع ابلاغ اورسیاسی ومذہبی تنظیموں کے ساتھ مل کر  یہ سمجھ رہی ہیں کہ وہ اس طرح  کے مختلف کھیل کھیل کرامریکہ کو بھی راضی کرسکتی ہیں اورمسلم پاکستانی عوام اور اللہ کوبھی  دھوکہ دے سکتی ہیں ۔یہ ان کی بھول ہے کیونکہ اللہ نے ان کی اس چال کے بارے میں پہلے ہی قرآن کریم میں بتادیا :
﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُم وَمَا يَشْعُرُونَ﴾
’’وہ اللہ کو  اور ایمان والوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر (فی الحقیقت) وہ اپنے آپ کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ۔‘‘ (البقرہ 2: 9)
ناپاک فوج اور اس  کے چیلے وقتی طور پربچاؤ،دفاع وتحفظ پاکستان کے نام پر  پاکستانی عوام کو گمراہ کر کے اوربیوقوف بناکر ان کی ہمدردیاں حاصل کرسکتے ہیں،لیکن  وہ اللہ رب العزت کو کبھی دھوکہ نہیں دے سکتے اور نہ ظاہری طورپررچائے جانے والے ڈراموں  ہی سے اللہ تعالی کو راضی  کرکے اپنے اوپر مسلط عذابوں اور مصیبتوں کوٹال سکتے ہیں ۔
اللہ تعالی ظاہری چال چلن،دھوم دھام،ٹھاٹھ باٹھ،نمود ونمائش اور شان وشوکت  نہیں دیکھتا بلکہ  وہ لوگوں کے اعمال وکرداراوران کے دلی ارادوں اورنیتوں کو دیکھتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’بے شک اللہ تعالی تمہاری شکل و صورت اور مال ودولت کو نہیں دیکھتاوہ تو تمہارے اعمال اور دلوں کو دیکھتا ہے۔‘‘(صحیح مسلم:٢٥٦٤)
ناپاک فوج اور اس کے حکمران  پاکستان کے لئے چند دعائیہ محفلیں اورجلسے منعقد کرانے،ڈرون حملوں کےخلاف کرداروفعل سے عاری  ظاہری جلسے وجلوس اور ریلیاں نکالنے،میڈیا واخبارات میں جذباتی  بیانات دینے، توبہ واستغفار اوراجتماعی نماز پڑھنے کی چند تصاویر چھپوا کرپاکستانی عوام کو تو یہ تاثر دے سکتے ہیں کہ انہوں نے توبہ کرلی  ہے اورمعافی مانگ کر اللہ تعالی کی طرف رجوع کرلیا ہے ۔
لیکن یہ تاثر وہ اللہ تعالی کو نہیں دے سکتے اور نہ اللہ تعالی  ان کے مگرمچھ کےآنسووٴں پر انہیں معاف کرکے ان  پر مسلط مصیبتوں اورعذابوں کو دور کرے گا بلکہ  اس طرح کی چالیں چل کر مزید سرکشی اور ڈھٹائی کرنے پراللہ تعالی اپنی چال چلتے ہوئے انہیں مزید عذاب سے دوچار کرے گا۔
گناہوں اور جرائم پر اصرار کی وجہ سے اللہ تعالی ابھی پاکستان کواسی طرح چھوٹے چھوٹے عذاب بھیج کرجھٹکے لگارہاہے جس طرح اس نے فرعون اور اس کی قوم پر مختلف عذاب بھیج کران کو جھٹکے لگائے۔
فرعون اوراس کی قوم پر بھیجے جانے والےعذابوں کی تفصیل ذکرکرتے ہوئے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا:
﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آيَاتٍ مُّفَصَّلاَتٍ فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْمًا مُّجْرِمِينَ﴾
’’پھر ہم نے ان پر طوفان، ٹڈیاں،جوئیں ، مینڈک اور خون (کتنی ہی) جداگانہ نشانیاں (بطورِ عذاب) بھیجیں،پھر(بھی)انہوں نےتکبروسرکشی اختیارکیےرکھی اوروہ(نہایت)مجرم قوم تھے۔‘‘ (الاعراف۷:١۳۳)
اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿ وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَونَ بِالسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِّن الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
’’ پھر ہم نے اہلِ فرعون کو (قحط کے) چند سالوں اور میووں کے نقصان سے (عذاب کی) گرفت میں لے لیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘  (الاعراف۷:١۳۰)
ان آیات کریمہ میں اللہ تعالی نے فرعون پر بھیجے جانے والے عذابوں کی تفصیلات اوران عذابوں کو دیکھ کرقوم فرعون نے جس ردعمل کا اظہار کیا،اسے ذکرکیا ہے۔
اللہ تعالی کا یہ اصول وقاعدہ ہے کہ وہ کسی کو تنبیہ کیے بغیر نہیں مارتا اور اسے چھوٹے عذاب سے دوچار کیے بغیر بڑے عذاب سے دوچار نہیں کرتا۔
اللہ تعالی خود قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
’’ اور ہم ان کو یقیناً بڑے عذاب سے پہلے قریب تر عذاب (کا مزہ) چکھائیں گے  شاید وہ(کفر سے ہماری طرف) لوٹ آئیں۔ ‘‘  (السجدة ۳۲:۲١)

::::::::  باقی آئندہ ان شاء اللہ   ::::::::

بشکریہ انصار اللہ اردو بلاگ

0 تبصرے:

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ