Subscribe:

Wednesday, December 21, 2011

اسلام کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔ دوسرا حصہ

آج پاکستان بھی اللہ تعالی کے اس قانونِ فطرت اور سنت الہیہ کا سامنا کررہاہے۔ پاکستان نے اپنے گناہوں سے توبہ کرکے اللہ تعالی کے آگے سر جھکانے کی بجائے اسلام کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والوں کے خون کی ندیاں بہاکر امریکہ اورصلیب کے آگے اپنے سرکو جھکایا۔مساجد ومدارس کو شہید کرنے سے لےکر اللہ کے اولیاء مجاہدینِ اسلام پر ہر ظلم وستم کو ڈھاکر انہیں شہید وگرفتار کیا۔
ایسا کون سا ظلم ہے جو پاکستانی افواج اور اس کی ایجنسیوں نے اہل حق اورمجاہدین  پر نہ کیا ہو؟؟؟؟
ان سب جرائم پر پاکستانی عوام کی مجرمانہ خاموشی اورظالموں کی نصرت وحمایت کو برقرار رکھنے کی وجہ سے پاکستان پر مصیبتیں اور آفات آرہی ہیں۔ پاکستانی عوام اللہ تعالی کے مختلف عذابوں  کو دیکھ کر صرف  آنکھیں موندلینے اور چند دعائیہ کلمات پڑھنے پر اکتفا کرنے سے یہ سمجھ رہی ہے کہ اللہ تعالی ان سے راضی ہوکر انہیں معاف کردے گا۔
ایسا ہر گز نہیں ہو گا کیونکہ اللہ تعالی کا ایک قانون اور نظام ہے جس میں کبھی ردوبدل نہیں ہوسکتا۔ اس کا اعلان  خود اللہ تعالی نے قرآن کریم میں کیا ہے:
﴿فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا﴾
’’ سو تم اللہ کی سُنّت میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے اور نہ  اللہ کی سنت میں ہرگز کوئی تغیرہی دیکھو گے۔‘‘ (فاطر35:43)
اللہ تعالی کا یہ قانون اورسنت ہے کہ وہ ایسی قوم کی حالت کو تبدیل نہیں کرتا جسے خود اپنی حالت تبدیل کرنے کی فکر نہ ہو:
’’بیشک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں،اور جب اللہ  کسی قوم کے ساتھ(اس کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے) عذاب کاارادہ فرما لیتا ہے تو اسےکوئی ٹال نہیں سکتا،اور نہ ہی ان کے لئے اللہ کے مقابلہ میں کوئی مددگار ہوتا ہے۔‘‘(الرعد13 :11)
پاکستانی عوام   نے اپنی حالت کو تبدیل نہیں کیا اورنہ  اسلام کےخلاف ناپاک فوج اور اس کی ایجنسیوں کی طرف سے دہشت گردی کے نام پر جاری کفری جنگ کو رکوایا۔سوات اورمالاکنڈکے مسلمانوں کو اسلام کے نفاذکا مطالبہ کرنے کے جرم میں  ناپاک فوج  نے  شہروں کے شہر خالی کرکے کفر وجمہوریت پرناراضگی کا اظہار کرنے والے ان مسلمانوں کو قتل وگرفتارکیا۔بچوں کو کلمہ طیبہ آنے کے جرم میں لائنوں میں کھڑا کرکے گولیوں کے برسٹ مارکر بھون دیا۔ بوڑھوں کو اسلام اورمجاہدین  کی محبت دل میں رکھنے کے جرم میں وحشیانہ تشدد کرکے ان کے گلوں میں کتوں کی رسیاں ڈال کران کے زخموں سے چورجسموں کو سڑکوں پراس وقت تک گھسیٹا یہاں تک کہ وہ اللہ اللہ کرتے ہوئے اپنے رب کے پاس جاپہنچے ۔ناپاک فوج نے صرف اسی پر ہی اکتفا نہیں کیابلکہ لاشوں کی بے حرمتی کی اورمسلمان عورتوں کی عصمتوں کو لوٹا۔ لال مسجد سے لےکر وزیرستان تک  ان مسلمانوں کےخلاف فوجی آپریشن کرکےانہیں شہیدوگرفتار کیاجنہوں نے اللہ کی زمین پراللہ کے قانون کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ قبائلی علاقوں میں ناپاک ایئرفورس کے ہیلی کاپٹرز ،سی ۱۳۰ اورایف سولہ طیارے کئی ٹن وزنی اپنے ہی تیارکردہ بموں اورمیزائلوں سےگولہ وبارودکی بارش کرکے ہزاروں مسلمانوں  کوشہید اوربیسیوں علاقوں اوربازاروں کو کھنڈرات میں تبدیل کررہے ہیں ۔جا معہ حفصہ کی پندرہ سو کے لگ بھگ  طالبات سمیت سینکڑوں مسلمان بچیوں کو  اغوا کرکے انہیں اپنی قیدمیں رکھ کردن رات  شیطانی ہوس کا نشانہ  بنارہے ہیں۔ عافیہ صدیقی سمیت مسلم خواتین اور نوجوانوں کو  سچامسلمان ہونے کے جرم میں گرفتار کرکے صلیبی امریکیوں کے حوالے کررہے ہیں۔مساجدومدارس پر بمباری اور فوجی آپریشن کرکے ناپاک فوج اور اس کی ایجنسیوں نے  قبائلی علاقوں میں ۲۰۰ سے زائدمساجدومدارس کوشہید اور۵۰۰ سے زائد  کوجزوی طور  پر تباہ کیا۔ناپاک فوجیوں نے  اللہ کے گھروں کے تقدس تک کا خیال نہیں کیا اورجوتوں سمیت گھس کران کی بے حرمتی کی۔قرآن کریم کے درجنوں نسخوں کو جلانے اورگولیوں سے چھلنی کرکے ان کی بے حرمتی کرنے  اورگندے نالوں میں ان کے مقدس اوراق کو پھینکنے کے بھیانک جرائم کا ارتکاب  کیا۔ پاکستان کے ہوائی اڈوں سے صلیبی طیارے  اڑکرافغانستان اوراس کے ملحقہ علاقوں میں مسلمانوں پر  بم برسارہے ہیں۔مسلمانوں کو ملیامیٹ کرنے کے لئے پاکستان صلیبی افواج کو ۹۰فیصد امدادبذریعہ کراچی افغانستان  پہنچارہاہے۔ناپاک فوج اوراس کی کرائے کی ایجنسیوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی اولاداورعرب مجاہدین کو گرفتار وشہیدکیا۔ ۹۸۰ سے زائدعرب وغیرملکی مجاہدین کو گرفتار کرکےبدنام زمانہ صلیبی عقوبت خانوں بگرام اور کیوبا پہنچایا۔ عالمی جہاد کے قائداور صلیبی افواج کے دشمن نمبر ون  شیخ اسامہ  بن لادن رحمہ اللہ کوتلاش کرکے  صلیبیوں کی سرپرستی  وشرکت سے انہیں شہید کرایا۔امریکی ڈرون طیاروں کا اسٹیئرنگ ناپاک فوج اور اس کی ایجنسیوں کے ہاتھوں میں ہے، جن کی مخبری اور تعاون سے آج تک امریکی درندے مسلمان بچوں،عورتوں اور بوڑھوں سمیت اسلام سے سچی محبت کرنے والوں پر میزائلوں کی  بارش کرکے ان  کے  خون کی ندیاں بہارہے ہیں۔
یہ  سب کچھ ہوجانے کے باوجود پاکستانی قوم اسلام کی مددکے لئے اٹھ کھڑی ہوجانے کی بجائے ان کے زخموں پر سیاست کرنے والی  تنظیموں اور درباری سیاسی ومذہبی رہنماوٴں وقائدین کے نعروں پر بے حس بن کر بیٹھی ہوئی ہے اورپاکستان کے دفاع کے نام پرامریکہ کی ناراضگی کے خوف سے اسلام کے خلاف  لڑنے والی ناپاک فوج اور اس کی ایجنسیوں کا ساتھ دینے میں لگی ہوئی ہے۔ پاکستان کی مذہبی وسیاسی تنظیمیں ناپاک فوج اور اس کی ایجنسیوں کے ان جرائم پرآوازبلند کرنے کی بجائے اب تک مجاہدین کی مخالفت کررہی ہیں اورامریکہ دشمنی کے نام پراسلام کےخلاف اپنے آپ کوچمکانے اورجمہوری  ومعاشرتی اقتدارسمیت ذاتی مفادات سمیٹنے کے لئے سرگرم ہیں۔وطن سے محبت اورتحفظ ودفاع،استحکام اور بچاؤپاکستان کے نام پر ناپاک فوج کو تقویت دینے اورپاکستانی عوام سے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا عزم کرانے کے لئے  امریکہ اوربھارت دشمنی کا سہارالیتے ہوئے ریلیاں اور جلسے وجلوس نکال رہی ہیں۔یہ سب کچھ پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے اور ان کی توجہ مسائل کی اصل وجوہات سے  ہٹاکرفرضی وجوہات کی طرف مبذول  کرانے کے لئے کیا جارہاہے۔
پاکستان کا آج سب سے بڑا مسئلہ اسلام سے غداری اور شریعت اسلامی کے نفاذکا مطالبہ کرنے والوں کےخلاف ناپاک فوج اوراس کی ایجنسیوں  کی طرف سے جاری کردہ  کفری جنگ ہے۔اس جنگ کی وجہ سے تمام مصائب ومشکلات آرہی ہیں۔اللہ کو ناراض کرکے امریکہ اورعالم کفر کو خوش کرنے والے  نہ کبھی امن،سکون اور خوشحالی دیکھ سکے ہیں نہ دیکھیں گے۔ناپاک فوج اور اس کی ایجنسیاں اپنی ماتحت تنظیموں وجماعتوں سے امریکہ کےخلاف چاہے جتنے جلسے وجلوس اور ریلیاں  اوراستغفار وتوبہ کی محفلیں  منعقد کرالیں، کفریہ خدمات انجام دے کر امریکہ اور عالم کفر کی جتنی مرضی چاپلوسیاں کرلیں ، لیکن انہیں امن وسکون اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک وہ  جنگ کے اسباب اوروجوہات کو ختم کرکے اسلام  کا نفاذ  کرتےہوئے اللہ کو راضی نہیں کرتیں۔
پوری دنیا مل  کر بھی حالیہ پاکستان کو بچانا چاہے تو نہیں بچاسکتی کیونکہ حالیہ پاکستان نے اللہ رب العزت  سے دشمنی مول لی ہے اوراس کے اولیاء مجاہدین کوملیامیٹ کرنے کے لئےجنگ برپاکررکھی ہے۔ناپاک فوج اوراس کی ایجنسیوں نے اسلام کےخلاف صلیبی جنگ میں فرنٹ لائن کا اتحادی بن کر جو کردار اداکیا ہے اورافغان وپاکستانی قبائلیوں کے قتل عام میں بڑھ چڑھ کر جو حصہ لیا ہے، آج پاکستان کو اس کے نتائج اورتباہ کاریوں کا سامناہے۔پاکستان نے اللہ کے قانون کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والوں کوبرداشت نہیں کیاتواللہ تعالی کس طرح پاکستان کویہ سب کچھ کرنےکےبعدبرداشت کرے گا۔ پاکستان نے اسلام کے نفاذکو ٹھکرادیااوراللہ کی زمین کو اللہ کے بندوں پر تنگ کردیا  تواللہ پاکستان کوزبان سے چنددعائیہ کلمات اور رسمی توبہ واستغفار کرنے پر کیونکر معاف کرسکتا ہے ۔
پاکستان پراب تک  اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے اس پر فوراً عذاب بھیج کراسے تہس نہس نہیں کیا بلکہ  مختلف چھوٹے عذاب بھیج کرپاکستانی عوام کو جھنجھوڑ رہا ہے اور تنبیہ کررہا ہے کہ اب بھی وقت ہے،اسلام کی طرف پلٹ آوٴ،اپنے ناراض رب کو راضی کرکے ناپاک فوج اور اس کی ایجنسیوں کا ساتھ مت دو۔اہل باطل کا دم بھرنے والی تنظیموں اورجماعتوں سے اعلان براءت کرکے ان کا بائیکاٹ کرو۔اسلام کو غلام بنا کر اپنے ماتحت چلانے والے کفری حکومتی نظام ، ناپاک فوج اور ان کے سیاسی ومذہبی آلہ کاروں سے نجات حاصل کرکے سچے مجاہدین (القاعدہ وطالبان) کا ساتھ دےکراسلامی شریعت کے نفاذکی جدوجہدمیں اپنا کرداراداکرو۔مجاہدین اسلام کے ہاتھوں کو مضبوط کرو اور اللہ سے سچے دل کے ساتھ توبہ واستغفار کرکے ناپاک فوج اور اس کے جرائم سے لا تعلقی کا اظہارکرو۔سچے دل کے ساتھ اللہ سے یہ عہدکرو کہ آج کے بعد ہم اسلام کےخلاف کسی کا ساتھ نہیں دیں گے اورنہ کسی ایسے شخص،جماعت، فوج اور حکومت کی حمایت وتائید کریں گے جو امریکہ کی دشمنی کاسہارا اوراسلام کانام لے کر اسلام کے عملی نفاذاوراللہ کی شریعت کی بالادستی  کوروک رہا ہو   اور اللہ کے اولیاء مجاہدین سے دشمنی مول لے کر مختلف حیلوں بہانوں سے ان کےخلاف جنگ لڑرہا ہو۔
اگر تم ایسا نہیں کرتے تو پھر یاد رکھو کہ اللہ کسی کی محبت اور دعوے کے آگے مجبور نہیں۔بلکہ اللہ ہمیشہ اہل حق کا ساتھ دیتا ہے اوران کی دعاوٴں کو قبول کرتے ہوئے ان کی مدد کرتاہے۔اس کا اعلان خوداللہ تعالی نے اپنی کتاب قرآن مجید میں  کیا ہے:
﴿إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ.يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ.﴾
’’بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان لانے والوں کی دنیوی زندگی میں (بھی)مدد کرتے ہیں اور اس دن (بھی کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے۔جس دن ظالموں کو اُن کی معذرت فائدہ نہیں دے گی اور اُن کے لئے پھٹکار ہوگی اور اُن کے لئے (جہنّم کا) بُرا گھر ہوگا۔‘‘( المومن ۴۰ :۵۱-۵۲)
جامعہ حفصہ سے لے کر سوات اور وزیرستان تک ناپاک فوج اوراس کی ایجنسیوں کے ہاتھوں اسلام کے نفاذکا مطالبہ کرنے کی وجہ سے شہیدوگرفتارہونے والے ہزاروں مسلمانوں کی بددعائیں پاکستانی  کفری نظام اوراس کی افواج وایجنسیوں کو دن بدن لگ رہی   ہیں ۔ اگر پاکستانی مسلمان اب بھی خاموش رہے اورتماشائی کرداراداکرنے سے بازنہیں آئے تواللہ بھی  ہمارے اس جرم کی وجہ سے ہمیں آخرت سے پہلے دنیا میں سزاسے دوچارکرسکتا ہے کیونکہ اللہ مظلوموں کی دعا ضرور  قبول کرتاہے اوران کی مددفرماتاہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
((اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ.)) متفق عليه
’’مظلوم کی پکار سے بچو کیونکہ اس کے اوراللہ کے درمیان کوئی آڑ نہیں ہوتی۔‘‘(صحیح البخاری، ح: ۱۴۹۶ وصحیح مسلم، الایمان ، ح: ۱۹)
پاکستان کے ظلم کا شکارتو وہ  لوگ ہیں جنہیں دین اسلام کوغالب کرنے  کے جرم میں نشانہ بنایاگیاتواللہ تعالی ان مظلوموں کی مدد کیوں نہیں کرے گا۔ بیشک اللہ تعالی ان کی مددکرے گا اور ہرظالم کواس کے ظلم کے مطابق سزا سے دوچار کرے گا۔ ہم پاکستانی عوام اگراپنے آپ کو اللہ کی پکڑسے بچانا چاہتے ہیں تو ہم پر واجب ہے کہ ہم  اسلام  اورمجاہدین  سے قولی وعملی محبت کرکے اہل کفر وباطل سے اعلان جنگ کریں۔اسلام کی وجہ سے ناپاک فوج  اورآئی ایس آئی کے ہاتھوں نشانہ بننے والےمسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کرکے  ان کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے اللہ کے دین کو نافذکرنے کے لئے جدوجہد کریں۔
یاد رکھیں !اگر آپ کسی کمزوری اورمجبوری کی وجہ سے اسلامی خلافت کے قیام کے لئے جہاد نہیں کرسکتے تو آپ پر یہ واجب ہے کہ آپ حقیقی مجاہدینِ اسلام (القاعدہ وطالبان)کے ساتھ ہرقسم کا تعاون کریں اوران کی دل کھول کر مدد کریں۔انہیں اپنی دعاوٴں میں  یادرکھیں۔ایسی تنظیموں اور جماعتوں کے ساتھ تعاون مت کریں جو اسلام کوانگریزی قوانین،پاکستانی ملکی کفری آئین  اور ناپاک فوج کے  تابع و مغلوب  رکھنے پر رضامنداورخوش ہیں۔
یاد رکھیے !اللہ پاکستان کے جرائم سے غافل نہیں ہے بلکہ اللہ ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑکرنے پر آتا ہے تووہ  اللہ سے بچ نہیں سکتا ۔چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:
﴿ وَلا ﺗََََّۡ اللَّهَ غَافِلا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الأبْصَارُ ﴾
’’اور اللہ کو ان کاموں سے ہرگز بے خبر نہ سمجھنا جو ظالم انجام دے رہے ہیں، بس وہ تو ان (ظالموں) کو فقط اس دن کے لئے مہلت دے رہا ہے جس میں (خوف کے مارے) آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی۔ ‘‘( ابراہیم 14 :43 )
ایک اورمقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ﴾
’’اور اسی طرح آپ کے رب کی پکڑ ہوا کرتی ہے جب وہ بستیوں کی اس حال میں گرفت فرماتا ہے کہ وہ ظالم (بن چکی( ہوتی ہیں۔  بیشک اس کی گرفت دردناک (اور) سخت ہوتی ہے ۔‘‘                (هود11 :102)
اسی طرح ایک اورمقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ لَوْ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ بَل لَّهُم مَّوْعِدٌ لَّن يَجِدُوا مِن دُونِهِ مَوْئِلاً. وَتِلْكَ الْقُرَى أَهْلَكْنَاهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِم مَّوْعِدًا.﴾
’’اور آپ کا رب بڑا بخشنے والا صاحبِ رحمت ہے، اگر وہ ان کے کیےپر ان کا مؤاخذہ فرماتا تو ان پر یقیناً جلد عذاب بھیجتا، بلکہ ان کے لئے (تو) وقتِ وعدہ (مقرر) ہے (جب وہ وقت آئے گا تو) اس کے سوا ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گے۔اور یہ بستیاں ہیں ہم نے جن کے رہنے والوں کو ہلاک کر ڈالا جب انہوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا تھا۔‘‘(الکہف۱۸:۵۸-۵۹)
پاکستانیو! اللہ جب پکڑ نے پر آتا ہے تواس کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اللہ کی پکڑسے ڈرتے ہوئے ناپاک فوج اور اس کی ایجنسیو ں کومسلمانوں کا قتل عام کرنے سے روکیں اور پاکستان میں رائج کفری انگریزی نظام  کا دفاع کرنے کی بجائے اللہ کے نظام اسلام کو نافذ کرنے کے لئے سرگرم ہوجائیں۔ پاکستان اور اس کی ایجنسیوںوافواج  کے دفاع کے نام پر حرکت میں آنے اورریلیاں نکالنے کی بجائے اللہ کے نظام ’’خلافت اسلامیہ‘‘ کے قیام کے لئے سرگرم مجاہدین (القاعدہ وطالبان) کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے اور اللہ کے دین کو غالب  کرنے کے لئے متحرک ہوجائیں۔یادرکھیں پاکستان اور ہم صرف اس صورت میں بچ سکتے ہیں جب اسلام کودل وجان سے قبول کرکے اس کے ہر حکم پر عمل  پیرا ہوجائیں۔اگرہم ایسا نہیں کرتے اور اسلام کو پس پشت ڈال کر کفرکی بالادستی پر راضی رہتے  ہیں تو پھراللہ تعالی بھی ہمیں اورہمارے پاکستان کوتباہ وبرباد ہونے سے نہیں بچائے گا کیونکہ ہم نے اس کے دین کی لاج نہیں رکھی تو وہ ہماری اور ہمارے وطن کی لاج کیوں رکھے گا؟
آئیے ہم  ان آفات  اور چھوٹے عذابوں سے سبق سیکھ کراسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائیں اور نام نہاد مسلمان بننے کی بجائے حقیقی مسلمان بن کردنیا وآخرت کی کامیابی وفلاح کوپا لیں۔اللہ تعالی ہم سب کواس کی توفیق عطافرمائے۔آمین
وَمَا عَلَيْنَا إِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِينُ





 بشکریہ
انصار اللہ ویب سائٹ

0 تبصرے:

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ