Subscribe:

Monday, December 26, 2011

شام میں القاعدہ کی نئی لہر


۲۴ دسمبر ۲۰۱۱
دمشق
شام کے دارالحکومت میں ہونے والے دو شہیدی کار حملوں نے شام میں ایک القاعدہ کی موجودگی کا اعلان کر دیا ۔ استشہادیوں نے دو بارودی گاڑیاں سیکیورٹی کے اداروں کی دو مختلف عمارتوں سے ٹکرا دیں ، دھماکوں کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ چند ہی لمحوں میں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں ۔ شام میں گذشتہ نو ماہ سے جاری جنگ میں القاعدہ یا اس سے منسلک مجاہدین کی یہ پہلی بڑی  کارروائی ہے۔  ان دھماکوں کے بعد شام میں القاعدہ کے مجاہدین کی موجودگی کے امکانات پر اٹھنے والے سوالات کا جواب مل گیا  ہے ۔

وللہ الحمد المنۃ ۔ ۔ ۔

شام کے مقامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے القاعدہ یا مجاہدین کے کسی گروہ کا ہاتھ ہے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے حکومت مخالف تحریک یا القاعدہ میں سے کوئی ملوث ہے ۔ جب کہ حکومت کے مخالف گروہ ان دھماکوں میں القاعدہ کے ملوث ہونے کا انکار کر رہے ہیں ۔ حکومت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے القاعدہ نے نہیں بلکہ حکومت نے خود کروائے ہیں ۔ تاکہ شام میں عرب مبصرین کے وفود کی توجہ بٹائی جا سکے ۔ یاد رہے کہ یہ دھماکے عین اس وقت ہوئے جب عرب دنیا کے وفود حکومت اور حکومت مخالف تحریک کے مابین جاری تنازعے میں مشاہداتی مشن کے لیے شام کے دورے پر ہیں ۔

تاحال القاعدہ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ، لیکن دھماکوں کے اہداف اور باردوی گاڑیوں کے ذریعے شہیدی حملوں کے انداز سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ شام میں القاعدہ کی منظم گروہ بندی مفروضہ نہیں ایک حقیقت ہے ۔

جن دو عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں ایک خفیہ ایجنسی کا ہیڈ کوارٹر جب کہ دوسری عمارت ملٹری انٹیلی جنس کے زیر استعمال تھی ۔

اللہ تعالیٰ مجاہدین کی نصرت فرمائیں اور انہیں اپنے اور ان کے دشمنوں پر فتح دیں ۔ ۔۔۔


0 تبصرے:

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ