Subscribe:

Saturday, January 7, 2012

استشہادی نے پولیس بس اڑا دی


دمشق
۶ جنوری ۲۰۱۲

اہل ایمان کو مبارک ہو ۔۔۔۔ شام میں القاعدہ کا ایک اور حملہ  
جمعہ کے روز  شام کے دارالحکومت دمشق میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے نزدیک ہمارے ایک استشہادی بھائی نے  پولیس اہلکاروں سے بھری ایک بس پر شہیدی حملہ کیا جس کے نتیجے میں پچیس پولیس اہلکار اور مرتد حکومت کے حامی ہلاک ہوگئے ۔ یہ  مبارک استشہادی حملہ ، ۲۴ دسمبر ۲۰۱۱کے دو شہیدی کار حملوں کے بعد دمشق میں تیسری شہیدی کارروائی ہے جس کے بعد شام میں القاعدہ کی طاقت وراور منظم جتھہ بندی کی ایک نئی لہر دنیا کے سامنے متعارف ہوئی ۔۔۔۔
وللہ الحمد والمنۃ ۔۔۔۔
صرف دو ہفتے قبل انٹیلی جنس کی دو عمارتوں کو کامیابی سے نشانہ بنانے کے بعد پولیس کے ایک ہیڈ کوارٹر  کے باہر پولیس بس ہر حملہ ، اس علاقے میں ہوا جسے حکومت کے حامیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔۔۔ اکثر تجزیہ نگار اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ان حملوں  میں جس طرح سے مہارت ، وقت اور اہداف کا تعین  کیا گیا ہے وہ القاعدہ کا خاصہ ہے ۔۔۔۔

دو ہفتے قبل ہونے والے حملوں کے بعد حکومت کا کہناتھا کہ حملوں کے پیچھے القاعدہ یا حکومت مخالف جنگجو ملوث ہیں ۔ جب کہ حکومت مخالف جنگجو ان حملوں میں القاعدہ کی مورد الزام ٹھہرانے کے لیے تیار نہیں تھے ۔ اس تازہ حملے کے بعد کم از کم حکومت اس بات پر یقین رکھنے لگی ہے کہ یہ حملے شام میں القاعدہ کی موجودگی کو ثابت کر رہی ہے ۔
جمعہ کی دن ہونے والی شہیدی کارروائی کے بعد مخالف جنگجووں کے رہنما کرنل ریاض الاسد نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کر دی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری تنظیم یعنی  " آزاد شامی لشکر  " اتنے بڑے پیمانے پر بہترین  اور طاقت ور  بارودی دھماکوں کا تجربہ اور صلاحیت نہیں رکھتی ۔۔۔ ریاض الاسد نے ایک مرتبہ پھر اسے حکومت کی سازش قرار دیا ہے ۔۔۔  جب کہ ہمارا خیال ہے کہ القاعدہ ، کی حکمت عملی یہی ہے کہ ابتدا میں خاموش رہ کر اس وقت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ سمیٹ لیا جائے ۔۔۔۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ   !!!  ابو عبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ کی زمین میں  مجاہد بھائیوں کی بہترین نصرت اور مدد فرمائیں ۔۔۔۔
آمین ۔۔۔۔

مجاہدین کا نشانہ بننے والی پولیس بس


پولیس بس کا اندرونی منظر 



دیکھیے پچھلی پوسٹ
شام میں القاعدہ کی نئی لہر


Friday, January 6, 2012

ہندوستان میں جہاد کا آغاز


میرے بھائی! السلام علیکم
میں ہندوستان میں جہاد کے بارے میں آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتا ہوں مہربانی فرما کر ان کے جوابات عنایت کریں
۱۔ آپ کی نظر میں انڈیا میں جہاد شروع کرنے کا مناسب وقت کب آئے گا ۔ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد یا اس سے پہلے ( اور کیوں )
۲۔ مجاہدین پاکستان کی اسٹبلشمنٹ کے خلاف مکمل جنگ کا آغاز کیوں نہیں کرتے ( یعنی پشاور سے کراچی تک  پولیس ۔ سیاست دان ۔ ملٹری اور دیگر کے خلاف ) ۔ کیا ان سے کوئی خفیہ ڈیل ہے ۔ کیوں کہ مکمل جنگ ہندوستان اور ایران کے مسلمانوں کے لیے فائدہ مند ہوگی ۔
۳۔ کیا کشمیر کی جنگ ہندوستان میں جہاد پر اثر انداز ہو رہی ہے یا انڈیا میں جہاد کشمیر پر اثر انداز ہوسکتا ہے ۔
۴۔ براہ مہربانی غزوہ ہند کے متعلق ایک تفصیلی مضمون لکھ کر اپنی ویب سائٹ پر نشر کریں ۔
ہندوستان میں آپ کا بھائی
میم  فاروقی

:::::::::
محترم بھائی
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ہندوستان میں جہاد کے متعلق سوال اپنے اندر دو جہتیں رکھتا ہے ۔ایک تو اس کا شرعی پہلو ہے اور دوسرا جنگی حکمت عملی کےا عتبار سے مجاہدین اور بھارتی ریاست کے درمیان جنگ شروع کرنے کا سوال ہے ۔۔۔
شرعی پہلو تو واضح ہے کہ امت مسلمہ کی موجودہ صورتحال اور کفر کے عالمگیر تسلط اور عسکری یلغار کو دیکھ کر ہر ایمانی غیرت رکھنے والا مسلمان جانتا ہے کہ بھارت کے مسلمانوں پر بھی جہاد اسی طرح فرض ہے جس طرح دنیا بھر کے مسلمانوں پر ۔۔۔

باقی رہا عسکری نقطہ نظر اور یہ سمجھنا کہ بھارتی مسلمان عالمی جہادی تحریک میں اپنا حصہ کیسے ڈال سکتے ہیں تو اس میں آراء اور تجاویز ، مختلف بھی ہوسکتی ہیں اور حکمت عملی کے اعتبار سے اس میں تبدیلی بھی واقع ہوسکتی ہے ۔

میری ناقص رائے میں ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا یہ بہترین موقعہ ہے  ۔۔۔ اگر اس موقع کو ضائع کیا گیا تو آئندہ جہاد مشکل ہوسکتا ہے ۔۔۔ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ شروع ہو گئی تو آپ کو مجاہدین نہیں ملیں گے کیوں کہ بھارتی مسلمانوں کے اندر وطنی غیرت اور زمین کی محبت کی بنا پر انہیں بھارت کے دفاع کے لیے پاکستان کے خلاف جنگ پر باآسانی آمادہ کیا جاسکے گا ۔اور اس وقت اتنا موقعہ نہیں ملے گا کہ آپ بھارتی مسلمانوں کے سامنے دین خالص پیش کریں اور  حق و باطل کا فرق واضح کر سکیں ۔

لہٰذا یہ ضروری ہے کہ بھارتی مسلمانوں کے اندر خالص توحید اور جہاد کی دعوت بناکسی تاخیر کے شروع کردی جائے ۔۔۔ تاکہ کسی خارجی حملے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے پہلے ہی وہ جہاد فی سبیل اللہ کے اساسی مقاصد جان لیں ۔۔۔۔

یہاں میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہو گی تو میری نظر میں وہ دینی بنیادوں کے بجائے وطنی بنیادوں پر لڑی جائے گی ۔لہٰذا میں اسے  دونوں طرف کے مسلمانوں کے دین کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہوں  ۔۔۔ اللہ کرے کہ یہ جنگ نہ ہو ۔۔۔۔ 

بہر حال  ، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حکمت ہر چیز پر غالب ہے اور بے شک اس بات کا علم صرف اسی کے پاس ہے کہ آئندہ کیا صورتحال پیش آنے والی ہے ۔۔۔  لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ اللہ کی نصرت اور تائید سے ان دونوں خطوں میں مجاہدین اتنے مضبوط ہوجائیں گے کہ اپنے اپنے علاقوں میں کفر کا غرور خاک میں ملا دیں گے اور اللہ کی نازل کردہ شریعت نافذ کر سکیں گے ۔۔۔ شرط یہی ہے کہ ایمان ، تقویٰ ، اخلاص ، صبر اور ثابت قدمی سے اللہ کے راستے میں ڈٹے رہیں ۔۔۔ میدان نہ چھوڑیں اور پیچھے نہ ہٹیں ۔۔۔
اور فرض کرلیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ دونوں خطوں میں مجاہدین کو فتح عطا فرما دیں ۔۔۔ توممکن ہے کہ یہ دونوں خطے ایک ہو جائیں اور پاکستان اور ہندوستان کے علاقوں پر مشتمل ایک ہی امارت اسلامیہ وجود میں آئے ۔۔۔۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارتی سرکار سے مجاہدین جنگ کی ابتدا کیسے کریں اور جنگ میں کیا حکمت عملی اپنائی جائے ۔۔۔۔ اس کے جوابات تحقیق اور تجربات سے سامنے آنا شروع ہوں گے ۔۔۔۔ آپ کو بہت سی عسکری کتابوں کے مطالعہ سے مدد لینی ہوگی ۔۔۔ مجاہدین کے جنگی تجربات اور بھارت کی معاشی اور سیاسی صورتحال کا گہرا مشاہدہ کرتے رہنا ہوگا ۔۔۔ ابتدا میں میرا مشورہ ہوگا کہ آپ شیخ ابو مصعب سوری (فک اللہ اسرہ ) کی جہادی انسائکلو پیڈیا نما کتاب (The-call-for-a-global-Islamic-resistance) دعوۃ المقاومۃ الاسلامیہ العالمی سے مدد لیں ۔۔۔ امید ہے کہ یہ آپ کے لیے راہ نما کتاب ثابت ہوگی ۔۔۔

نیز اس سے قبل انڈین مجاہدین کی تنظیم بھارت میں منظم کارروائیاں انجام دے چکی ہے ۔۔۔ اور اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ان کارروائیوں کے پیچھے مجاہدین کے کسی بیرونی عناصر کا ہاتھ نہیں بلکہ یہ تمام کارروائیاں بھارت کے اپنے مجاہدین نے انجام دی ہیں ۔۔۔۔ ان میں سے بعض کارروائیوں کی تفصیلات دیکھنا چاہتے ہوں تو میں ان کے لنکس فراہم کر رہا ہوں ۔۔۔۔



Attacks claimed by Indian Mujahideen



The emails sent by Indian Mujahideen claimed that they were responsible for the following terror incidents. One warning email was received 5 minutes before the first blast in Ahmedabad. Another was received soon after the first blast of the Delhi bombings. The timing makes it impossible for any other groups to have sent the two emails.


§ 23 November 2007 Uttar Pradesh serial blasts


§ 13 May 2008 Jaipur bombings


§ 25 July 2008 Bangalore serial blasts


§ 26 July 2008 Ahmedabad serial blasts


§ 13 September 2008 Delhi serial blasts


§ 2010 Pune bombing


§ 2010 Jama Masjid attack


§ 2010 Varanasi bombing


§ 2011 Mumbai serial blasts[12]


ان تمام کارروائیوں کے بعد یا قبل بھارتی سرکار کی طرف مجاہدین ای میل پیغام بھیجتے رہے ہیں اور انہوں نے ان کی ذمہ داریاں قبول کی ہیں ۔۔۔۔
جولائی ۲۰۰۸ میں احمد آباد میں ہونے والے دھماکوں سے پانچ منٹ قبل جو ای میل بھارت سرکار کو موصول ہوئی تھی اس کا ایک حصہ یہ بھی تھا ::



It warns about havoc about to happen in five minutes:



"... Here we are back - the Mujahideen of India - the terrorists on the disbelievers - the radicals of Islam - after our triumphant and successful assault at Jaipur, once again calling you all, who disbelieve in Allah and His Messenger Muhammad to accept Islam and bear witness that there is none to be worshipped except Allah, and that Muhammad is the Messenger of Allah. Accept Islam and save yourselves.


O Hindus! O disbelieving faithless Indians! Haven’t you still realized that the falsehood of your 33 crore dirty mud idols and the blasphemy of your deaf, dumb, mute idols are not at all going to save your necks, Insha-Allah, from being slaughtered?


We call you, O Hindus, O enemies of Allah, to take an honest stance with yourselves lest another attack of Ibn-e-Qasim sends shivers down your spines, lest another Ghauri shakes your foundations, and lest another Ghaznawi massacres you, proving your blood to be the cheapest of all mankind! Have you forgotten your history full of subjugation, humiliation, and insult? Or do you want us to repeat it again? Take heed before it is too late!


So wait! ................ Await now……….! Wait only for five minutes from now! .... Wait for the Mujahideen and Fidayeen of Islam and stop them if you can - who will make you feel the terror of Jihad. Feel the havoc cast into your hearts by Allah, the Almighty, face His Dreadful Punishment, and suffer the results of fighting the Muslims and the Mujahideen. Await the anguish, agony, sorrow and pain. Await, only for 5 minutes, to feel the fear of death...".


چنانچہ ، جہاد کا آغاز تو بہت عرصے قبل ہو چکا ہے ۔۔۔ اور اس وقت کی صورتحال یہ ہے کہ مجھے مسلسل اطلاعات موصول ہو تی رہتی ہیں  کہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے مختلف علاقوں سے بھارتی مسلمانوں کو گرفتار کر لیا  ہے ۔۔۔ ان کو رہا کرنے کے بعد بھی ان کی باقاعدہ نگرانی اور تفتیش کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔۔۔ گویا مسلمانوں کی نگرانی اور ان کی خفیہ جاسوسی کا نظام مستقل حرکت میں ہے ۔۔۔۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ  کئی مسلمانوں کو جیلوں میں اذیتیں دے کر شہید کیا جا چکا ہے ۔۔۔ وغیرہ ۔۔۔

اس کی ایک وجہ جو میں جان سکا ہوں وہ یہ کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں انٹرنیٹ خاص طور پر فیس بک پر کافی فعال ہیں ۔۔۔  اور فیس بک اور دیگر سوشل ویب سائٹس پر بھارتی مسلمانوں کی نگرانی جاری ہے ۔۔۔ یہاں میں یہ اضافہ بھی کرنا چاہوں گا کہ بھارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان سے زیادہ ترقی یافتہ ہے ۔۔۔ اور میرا خیال یہی ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں انٹرنیٹ پر جاسوسی کرنے میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں سے زیادہ فعال ہیں ۔۔۔ میں اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے یہ یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ اس وقت دنیا بھر کی ویب سائٹس میں سے بہت سوں کے سرور بھارت میں ہی موجود ہیں ۔۔۔ اور انہیں انفارمیشن حاصل کرنے کے لیے دنیا کے دوسرے حساس اداروں کی ضرورت باقی نہیں ۔۔۔ یہ بات میں اس لیے کہنا چاہتا ہوں کہ بھارتی مجاہدین کو انٹرنیٹ پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے معاملہ میں زیادہ محتاط اور حساس ہونا چاہیے ۔۔۔


۲۔ آپ کا دوسرا سوال زبردست ہے ۔۔۔ یقین جانیے کہ میں آج کل خود اس کا جواب تلاش کر رہا ہوں ۔۔۔ سوچتا ہوں  کہ مجاہدین سے اس کی وجہ پوچھوں لیکن پھر کچھ سوچ کر چپ رہتا ہوں ۔۔۔ بس خاموش ہی رہیں تو بہتر ہے کیوں کہ ہو سکتا ہے اس کی کوئی ایسی وجہ ہو جو بتائی نہ جاسکے ۔۔۔

۳۔  کشمیر کی جنگ سے انشاء اللہ بھارتی مسلمانوں کو فائدہ ہو گا یعنی یہ آپ کے سوال کا جواب ہے کہ بھارت میں جہاد اثر انداز تو ہوگا لیکن یہ اثرات جہاد کے لیے فائدہ مند ہیں نقصان دہ نہیں ہیں ۔۔۔ بس اشارہ کافی ہے ۔۔۔

۴۔  غزوہ ہند  کے متعلق احادیث کی تعداد زیادہ نہیں ہے ۔۔ اس لیے اس پر بات کرنا مشکل ہوگا ۔۔۔ اس پر جو کچھ پہلے لکھا ہے ممکن ہے وہ تحریر آپ کی نظر سے نہیں گزری ، اس لیے اسکا لنک فراہم کر رہا ہوں ۔۔۔ غزوہ ہند کے متعلق تفصیلات تو زیادہ نہیں ہیں ، لیکن آپ کوئی خاص بات پوچھنا چاہتے ہوں تو ضرور پوچھ سکتے ہیں۔۔۔


پہلا لنک

دوسرا لنک




والسلام  علیکم ورحمۃ اللہ
غزوہ ہند میں شریک آپ کا بھائی
عرفان بلوچ



Wednesday, January 4, 2012

بے غیرت برگیڈ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بے غیرت برگیڈ
                                                                                                                                                                احمد حسن
قیامِ پاکستان سے اب تک اور پھر بالخصوص پرویز مشرف دور سے سیکولر طبقے کو اندر اور باہر سے اتنی حوصلہ افزائی مل چکی ہے کہ وہ نبی محترمﷺ کی ذات تک کو اپنے پیمانوں سے تولنے لگ گیا ہے۔قوانینِ شریعت پر نقد اور مغرب سے درآمد شدہ جمہوریت کی مدح، عورت کے بارے میں اسلام کے احکامات پر زبان درازی اور مغرب کی بے پردہ تہذیب سے اظہارِ محبت، علومِ دینیہ اور علما کی توہین اور اس کے مقابلے میں مغربی فلسفیوں کی تحسین، جہاد جیسی عبادت کی مذمت اور ضالّین و مغضوبین (نصاریٰ اور یہود) کی قدم بوسی اس طبقے کے لیے ایسی آسان بن گئی ہے کہ مغرب کی گرد میں اَٹا ہوا’پاکستانی ہیومن‘ گلے میں مغربی تہذیب کا پھندا ڈالے ٹی وی پر آبیٹھتا ہے اور ایسے ایسے فلسفے بگھارتا ہے جس کی مبادیات سے شاید وہ خود بھی اچھی طرح واقف نہیں ہوتا۔ ان میں سے اکثر تو شاید ٹی وی سکرین پر نظر آنے کے شوق ہی میں بہت سی ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جن پر وہ خود بھی ایمان نہیں رکھتے۔ حقیقت ہے کہ ’غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر‘۔
لال مسجد کی تحریک کو لادین طبقے نے ایک حقیقی خطرے کے طور پر دیکھا جو واضح طور پر جمہوریت، اعتدال پسندی اور روشن خیالی کے پروگراموں کو چیلنج کر رہا تھا۔ اس خطرے سے کس طرح نمٹنے کی کوشش کی گئی اس کو تو کبھی نہیں بھلایا جا سکتا۔ ہزار ہا معصوم حافظہ بچیوں اور غازی عبدالرشیدرحمہ اللہ کا خون بہا کر اسلام آباد کو وقتی طور پر اسلام سے دورتو کر دیا گیا لیکن اس خون کی برکت سے ایسی زندہ تحریک اُٹھ کھڑی ہوئی ہے جو گلی گلی لادینیت کے ساتھ جنگ لڑ رہی ہے۔لال مسجد کے واقعے سے لے کر توہینِ رسالت کے قانون میں ترمیم کی کوشش تک کے عرصہ کو پاکستان میں لادینیت کی بھرپور کوشش کا دور کہا جا سکتا ہے۔لیکن سلمان تاثیر کے قتل نے لادینوں کی ساری محنت پر یکبارگی پانی پھیر کر رکھ دیا۔ اس واقعہ سے نبیﷺ کی توہین کرتی بہت سی زبانیں اچانک ہی گُنگ ہو کر رہ گئیں۔ سورۂ اخلاص تک کی تلاوت کرنے سے قاصر سیاستدان اس واقعے کے صرف دو روز بعد کراچی میں دورانِ پریس کانفرنس اذان کی آواز پر سکوت اختیار کرتے نظر آۓ۔ ان پر واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان کا معاشرہ اسلامی تشخص کے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ یہ کج دل اپنی بقا کے لیے آخری کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان کے  جدّت پسند ویسے بھی خاصےبیک ورڈ ہیں کہ جب پوری دنیا میں سیکولرزم اور جمہوریت کے نظریات اپنے مختصر عروج کے بعد مجاہدین کے ہاتھوں شکست کھا رہے ہیں، اِن کو ایسے وقت میں سیکولرائز ہونے اور ’اصلی ڈیمو کریسی‘ نافذ کرنے کی سوجھ رہی ہے۔
اس پورے مقدمے کا مقصدحال ہی میں  منظر عام پر آنے والےگویّوں کے دو گروہوں ’بے غیرت برگیڈ‘ اور ’لال بینڈ‘ کی ذہنیت کو سمجھنا ہے۔  یو ٹیوب پر ان کے ریلیز کردہ گانوں میں جس طرز سے شریعت اور اس کے لیے کی جانے والی جدّوجہد کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا یہ مغربی تہذیب ہی کا خاصہ ہے۔ ویسے بھی دونوں کے نام ان کی شخصیت کی خاصی عکاسی کر رہے ہیں۔یہ دونوں گروہ  اعلیٰ یونیورسٹیوں سے پڑھے ہوۓ  ہیں لہٰذا انہیں درست طور پر مغربی نظامِ تعلیم کی پراڈکٹ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔لارڈ میکالے کے بناۓ ہوۓ یہ ’بابو‘ پاکستان میں نفاذِ شریعت کو تو نہیں روک سکتے لیکن ان کا یہ کام معاشرے کو دو صفوں میں بانٹنے کا کام ضرور کرے گا۔ اسلام کے خلاف ہونے والی ایسی ہر کارروائی اس دل کو جھنجھوڑ رہی ہے جس کے دل میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت ہے کہ وہ ایمان کے خیمے میں آمقیم ہو اور اپنی خواہشات کو ترک کرتے ہوۓ اسلام کی نصرت کرنے والا بن جاۓ۔ دوسری طرف منافقین کا نفاق بھی ظاہر ہوتا چلا جا رہا ہے۔  یہ صف بندی شریعت کا مقصود ہے کہ طیب، خبیث سے اور  طاہر، ناپاک سے جدا ہو جاۓ اور  نبی اکرمﷺ نے اس کی خبر بھی دی ہے،اذا صار الناس فی فسطاطين فسطاط إيمان لا نفاق فيه وفسطاط نفاق لا إيمان فيه فإذا كان ذٰلک فانتظروا الدجال (جب لوگ دو خیموں میں بٹ جائیں، ایک ایمان کا خیمہ جس میں کوئی نفاق نہ ہو اور ایک نفاق کا خیمہ جس میں کوئی ایمان نہ ہو، پس جب ایسا ہو جاۓ تو تم دجّال کا انتظار کرنا)۔
ان میں سے ایک نے گانے کی ویڈیو کے آخر میں لکھا ہے’’اگر آپ چاہتے ہیں کہ میرے سر میں گولی لگے تو اس ویڈیو کو پسند کریں‘‘۔ دوسرے گائیک نے الجزیرہ چینل کے ایک پروگرام میں کہا’’مجھے علم ہے کہ اس سے میری جان کو خطرہ لاحق ہو گا لیکن میں اسے ضروری سمجھتا ہوں‘‘۔ ایک لادین شخص جس کا عمل آخرت کے اجر کی امید پر بھی نہیں، اپنے ’ضروری‘ نظریات کو پھیلانے کے لیے خطرہ مول لے رہا ہے۔ وہ لوگ جو اسلام کو حق سمجھتے ہیں، اسلام کا غلبہ دیکھنا چاہتے ہیں اور اسلام ہی پر اپنا خاتمہ چاہتے ہیں ان کو بھی چاہیے کہ مصلحت کے عذر کو ایک طرف رکھ دیں اور اپنے قول و عمل کو شریعتِ اسلامی کے نفاذکے لیے وقف کر دیں۔ ان شاء اللہ مغرب عنقریب اپنی تہذیب کو اسلام کے ہاتھوں ختم ہوتا دیکھے گا اور اس کا گلوبل سسٹم سیاہ جھنڈوں تلے روندا جاۓ گا۔