Subscribe:

Wednesday, January 4, 2012

بے غیرت برگیڈ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بے غیرت برگیڈ
                                                                                                                                                                احمد حسن
قیامِ پاکستان سے اب تک اور پھر بالخصوص پرویز مشرف دور سے سیکولر طبقے کو اندر اور باہر سے اتنی حوصلہ افزائی مل چکی ہے کہ وہ نبی محترمﷺ کی ذات تک کو اپنے پیمانوں سے تولنے لگ گیا ہے۔قوانینِ شریعت پر نقد اور مغرب سے درآمد شدہ جمہوریت کی مدح، عورت کے بارے میں اسلام کے احکامات پر زبان درازی اور مغرب کی بے پردہ تہذیب سے اظہارِ محبت، علومِ دینیہ اور علما کی توہین اور اس کے مقابلے میں مغربی فلسفیوں کی تحسین، جہاد جیسی عبادت کی مذمت اور ضالّین و مغضوبین (نصاریٰ اور یہود) کی قدم بوسی اس طبقے کے لیے ایسی آسان بن گئی ہے کہ مغرب کی گرد میں اَٹا ہوا’پاکستانی ہیومن‘ گلے میں مغربی تہذیب کا پھندا ڈالے ٹی وی پر آبیٹھتا ہے اور ایسے ایسے فلسفے بگھارتا ہے جس کی مبادیات سے شاید وہ خود بھی اچھی طرح واقف نہیں ہوتا۔ ان میں سے اکثر تو شاید ٹی وی سکرین پر نظر آنے کے شوق ہی میں بہت سی ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جن پر وہ خود بھی ایمان نہیں رکھتے۔ حقیقت ہے کہ ’غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر‘۔
لال مسجد کی تحریک کو لادین طبقے نے ایک حقیقی خطرے کے طور پر دیکھا جو واضح طور پر جمہوریت، اعتدال پسندی اور روشن خیالی کے پروگراموں کو چیلنج کر رہا تھا۔ اس خطرے سے کس طرح نمٹنے کی کوشش کی گئی اس کو تو کبھی نہیں بھلایا جا سکتا۔ ہزار ہا معصوم حافظہ بچیوں اور غازی عبدالرشیدرحمہ اللہ کا خون بہا کر اسلام آباد کو وقتی طور پر اسلام سے دورتو کر دیا گیا لیکن اس خون کی برکت سے ایسی زندہ تحریک اُٹھ کھڑی ہوئی ہے جو گلی گلی لادینیت کے ساتھ جنگ لڑ رہی ہے۔لال مسجد کے واقعے سے لے کر توہینِ رسالت کے قانون میں ترمیم کی کوشش تک کے عرصہ کو پاکستان میں لادینیت کی بھرپور کوشش کا دور کہا جا سکتا ہے۔لیکن سلمان تاثیر کے قتل نے لادینوں کی ساری محنت پر یکبارگی پانی پھیر کر رکھ دیا۔ اس واقعہ سے نبیﷺ کی توہین کرتی بہت سی زبانیں اچانک ہی گُنگ ہو کر رہ گئیں۔ سورۂ اخلاص تک کی تلاوت کرنے سے قاصر سیاستدان اس واقعے کے صرف دو روز بعد کراچی میں دورانِ پریس کانفرنس اذان کی آواز پر سکوت اختیار کرتے نظر آۓ۔ ان پر واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان کا معاشرہ اسلامی تشخص کے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ یہ کج دل اپنی بقا کے لیے آخری کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان کے  جدّت پسند ویسے بھی خاصےبیک ورڈ ہیں کہ جب پوری دنیا میں سیکولرزم اور جمہوریت کے نظریات اپنے مختصر عروج کے بعد مجاہدین کے ہاتھوں شکست کھا رہے ہیں، اِن کو ایسے وقت میں سیکولرائز ہونے اور ’اصلی ڈیمو کریسی‘ نافذ کرنے کی سوجھ رہی ہے۔
اس پورے مقدمے کا مقصدحال ہی میں  منظر عام پر آنے والےگویّوں کے دو گروہوں ’بے غیرت برگیڈ‘ اور ’لال بینڈ‘ کی ذہنیت کو سمجھنا ہے۔  یو ٹیوب پر ان کے ریلیز کردہ گانوں میں جس طرز سے شریعت اور اس کے لیے کی جانے والی جدّوجہد کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا یہ مغربی تہذیب ہی کا خاصہ ہے۔ ویسے بھی دونوں کے نام ان کی شخصیت کی خاصی عکاسی کر رہے ہیں۔یہ دونوں گروہ  اعلیٰ یونیورسٹیوں سے پڑھے ہوۓ  ہیں لہٰذا انہیں درست طور پر مغربی نظامِ تعلیم کی پراڈکٹ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔لارڈ میکالے کے بناۓ ہوۓ یہ ’بابو‘ پاکستان میں نفاذِ شریعت کو تو نہیں روک سکتے لیکن ان کا یہ کام معاشرے کو دو صفوں میں بانٹنے کا کام ضرور کرے گا۔ اسلام کے خلاف ہونے والی ایسی ہر کارروائی اس دل کو جھنجھوڑ رہی ہے جس کے دل میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت ہے کہ وہ ایمان کے خیمے میں آمقیم ہو اور اپنی خواہشات کو ترک کرتے ہوۓ اسلام کی نصرت کرنے والا بن جاۓ۔ دوسری طرف منافقین کا نفاق بھی ظاہر ہوتا چلا جا رہا ہے۔  یہ صف بندی شریعت کا مقصود ہے کہ طیب، خبیث سے اور  طاہر، ناپاک سے جدا ہو جاۓ اور  نبی اکرمﷺ نے اس کی خبر بھی دی ہے،اذا صار الناس فی فسطاطين فسطاط إيمان لا نفاق فيه وفسطاط نفاق لا إيمان فيه فإذا كان ذٰلک فانتظروا الدجال (جب لوگ دو خیموں میں بٹ جائیں، ایک ایمان کا خیمہ جس میں کوئی نفاق نہ ہو اور ایک نفاق کا خیمہ جس میں کوئی ایمان نہ ہو، پس جب ایسا ہو جاۓ تو تم دجّال کا انتظار کرنا)۔
ان میں سے ایک نے گانے کی ویڈیو کے آخر میں لکھا ہے’’اگر آپ چاہتے ہیں کہ میرے سر میں گولی لگے تو اس ویڈیو کو پسند کریں‘‘۔ دوسرے گائیک نے الجزیرہ چینل کے ایک پروگرام میں کہا’’مجھے علم ہے کہ اس سے میری جان کو خطرہ لاحق ہو گا لیکن میں اسے ضروری سمجھتا ہوں‘‘۔ ایک لادین شخص جس کا عمل آخرت کے اجر کی امید پر بھی نہیں، اپنے ’ضروری‘ نظریات کو پھیلانے کے لیے خطرہ مول لے رہا ہے۔ وہ لوگ جو اسلام کو حق سمجھتے ہیں، اسلام کا غلبہ دیکھنا چاہتے ہیں اور اسلام ہی پر اپنا خاتمہ چاہتے ہیں ان کو بھی چاہیے کہ مصلحت کے عذر کو ایک طرف رکھ دیں اور اپنے قول و عمل کو شریعتِ اسلامی کے نفاذکے لیے وقف کر دیں۔ ان شاء اللہ مغرب عنقریب اپنی تہذیب کو اسلام کے ہاتھوں ختم ہوتا دیکھے گا اور اس کا گلوبل سسٹم سیاہ جھنڈوں تلے روندا جاۓ گا۔




7 تبصرے:

Behna Ji said...

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بہت اچھے موضوع پر لکھا آپ نے. مجھے بھی بہت غصّہ آیا تھا انکو دیکھ کر . واقی اس وقت لوگ دو گروہوں میں بٹ رہے ہیں تیزی کے ساتھ .اور یہ بھی ٹھیک کہا آپ نے کہ اچھے لوگوں کی لئے یہ وقت مصلحت کو شی کا نہی ہے.



دوسرے گائیک نے الجزیرہ چینل کے ایک پروگرام میں'' کہا’’مجھے علم ہے کہ اس سے میری جان کو خطرہ لاحق ہو گا لیکن میں اسے ضروری سمجھتا ہوں‘‘۔ ایک لادین شخص جس کا عمل آخرت کے اجر کی امید پر بھی نہیں، اپنے ’ضروری‘ نظریات کو پھیلانے کے لیے خطرہ مول لے رہا ہے۔ وہ لوگ جو اسلام کو حق سمجھتے ہیں، اسلام کا غلبہ دیکھنا چاہتے ہیں اور اسلام ہی پر اپنا خاتمہ چاہتے ہیں ان کو بھی چاہیے کہ مصلحت کے عذر کو ایک طرف رکھ دیں اور اپنے قول و عمل کو شریعتِ اسلامی کے نفاذکے لیے وقف کر دیں''>

اور آپکی اس بات پر مجھے یہ آیت یاد آ گئی

104 اور ان لوگوں کا پیچھا کرنے سے ہمت نہ ہارو اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں حالانکہ تم الله سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں اور الله سب کچھ جاننے والا حکمت ولا ہے
سورة النساء

Anonymous said...

inshallah iss kihte arz (pakistan) ke rehne wale gharat mand logg en be gharato ko marr bhagahe ga.




talha

Anonymous said...

lol
bhai Pakistan mein kabsay Ghairat mang paida hogaye
agar ghairat mand hotay to america ko support na kartain

Anonymous said...

Aslam o Alikum , i just want to say that what they donr is really really bad , but you cant just blame this system of education for it , because , i my self a student of this system and i have seen changing of minset in this system too , and now the highly educated peoples are more reffering toward Jihad in pakistan and Afganistan than other classes, sorry if i said anything bad , JazakALLAH

Anonymous said...

مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ بے غیرت بریگیڈ کے گانوں پر واویلا کرنے والے کس اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں جہاں لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے جہاں ایک فرقہ دوسرے فرقے کو مسلمان سمجھنے کے لئے تیار نہیں جہاں وہ اسلام جس کے ماننے والے اس قدر بے غیرت ہیں ایک طرف تو امریکہ کو گالیاں نکالتےہیں اور دوسری طرف بالشت بالشت بھر لمبی داڑھیوں کےساتھ امریکہ اور برطانیہ کے سفارت خانوں کے سامنے لائن لگا کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ گزشتہ دو سوسال کے عرصے میں جس مذہب نے بین الاقوامی شہرت رکھنے والا ایک بھی ماہر طبیعات پیدا نہ کیا ہو کوئی ایسی ایجاد نہ کی ہو جس پر آج کا مسلمان فخر کر سکے کوئی فلسفی ایسا نہ پیدا کیا ہو جس کے نظریات نے کوئی انقلاب پیدا کیا ہو جس کے متبعین آپس میں اس طرح باہم دست و گریباں ہوں کہ مساجد پر حملے کریں اور لوگوں کے اموال ناجائز طور پر کھائیں وہ مذہب جہاں عبادت گاہوں کی حفاظت کی بجائے اس میں نماز پڑھنے سے روکا جائے اور اس پر فخر کیا جائے ایسی اقوام کے لئے خدا کا یہ فیصلہ ہوتا ہے ان کو مٹا دیا جائے نہ کہ یہ قومیں دوسروں کو مٹا سکیں

Abdullah baloch said...

mister anonymous sahb yeh mustaqbil btaiy ga k kon kis ko mitata hy.

Taquee Ahmad Nadvi said...

Mr Anaonymous Agar Koe qaum aisi halat main aa bhi jaaye to kia aapko lagta hai k use achhayee ki ummid chhod kar ghar baith kar Maut ka intezar karna chahiye . Yar un Halat ke dat jana chahiye ?
doosri cheez ye zamana fitnon ka hai aaj serate mustaqeem par chalne wale kam milain ge aur unki tadad lagatar kam hoti chali jayegi . Magar usse un janbazon ka koe nuksan nahi hoga jo allah ke raste main apni janon ka nazrzna dete hain

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ