Subscribe:

Tuesday, February 28, 2012

شہداء سے معذرت کے ساتھ ۔۔۔


شیخ عبداللہ عزام شہید رحمہ اللہ

ترجمہ ام ہاشم

تذکرہ شہداء ، نئی نسل کے کردار کی ضامن ہے

قوموں کی تاریخیں اُن جری نوجوانوں کے خون سے رقم ہوتی ہیں جو زمانے کا رخ موڑ دینے کا عزم اور حوصلہ رکھتے ہیں۔افغانستان کے کوہساروں میں رقم ہونے والی تاریخ ایسے ہی بلندحوصلہ نوجوانوں کی داستان ہے۔ آج احیائے اسلام کے لیے تن من دھن وقف کرنے کی رِیت قائم کرنے کا سہرا اُن کے سر ہے جنھوں نے اپنے خون ‘ ہڈیوں اور گوشت سے اس عمارت کی از سرِ نو تعمیر کی ہے۔ امت کے دورِ زوال میں ایسے نوجوانوں کا وجود معجزے کا درجہ رکھتا ہے۔ اور یہ معجزہ امت کی نشاۃ ثانیہ کی نوید ہے۔قومیں اپنی تاریخ کو رقم کرنا فرض گردانتی ہیں تاکہ آنے والی نسلیں ان اقدار کی پاسبان ہوں جن کی خاطر ان کے بہادر سپوتوں نے جان کے نذرانے پیش کیے۔
نئی نسلوں کے کردار کی بہترین تعمیر ان کے رہنماؤں اور ابطال کی زندگیوں کی داستان سنائے بغیر ممکن نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت سے ہمیں یہی رہنمائی ملتی ہے اور صحابہء کرام رضی اللہ عنہم کا طرز ِعمل اسی روش کی پابندی سکھاتا ہے:

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّـهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ         (الانعام:۹۰)
یہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ نے ہدایت دی تھی سو آپ بھی انہیں کے طریق پر چلئے 

یہ زندہ کردار ہمارے ماحول سے جتنا قریب ہوں گے اور ہمارے زمانے سے ان کا تعلق جتنا گہرا ہو گا اسی قدر دلوں پر ان کے اثرات بھی گہرے ہوں گے ۔ یہ زندہ کردار پوری قوت سے اپنی عظمت کی داستان بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: " ان میں سے ہر نوجوان تمہارے ہی معاشرے کا ایک فرد تھا ‘تمہاے ہی جیسے ماحول میں اس کی پرورش ہوئی پھر بالآخر یہی تم سے بازی لے کر منزل پر جا پہنچا۔ آخر تمھیں اس کے نقش پاکی پیروی کرنے میں کیا امر مانع ہے" ؟

شہداء سے معذرت کے ساتھ !!!

ہم جب بھی افغانستان کے کسی شہید کی وصیت کا مطالعہ کرنے چلتے ہیں ایک مشکل آڑے آجاتی ہے !ان میں سے اکثر شہداء کا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ"ان کے بارے میں ایک لفظ بھی تحریر کرنے سے گریز کیا جائے "۔ سعد رشود نے اپنی وصیت میں بڑے شد و مد کے ساتھ تاکید کی کہ" میں مجلہ’ الجہاد‘ اور ’بنیانِ مرصوص ‘کو ہر گز اجازت نہیں دیتاکہ وہ میرے بارے میں ایک لفظ بھی تحریر کریں "۔ ابو دجانہ کی وصیت بھی یہ تھی کہ " ان کے بارے میں کچھ بھی تحریر نہ کیا جائے"۔

ابو مسلم صنعانی نے وصیت کی کہ "جوکوئی ان کے بارے میں کچھ تحریر کرے گا وہ قیامت کے دن اس کا جواب طلب کریں گے "۔جب بھی ایسی کوئی تحریر میری نظر سے گزرتی ہے میں خود سے سوال کرتا ہوں:" کیا ہمارے ان پیارے شہداء کو اس بات کا حق پہنچتا ہے کہ وہ لوگوں کو ‘اپنے بارے میں کلمہء خیر کہنے سے باز رکھیں؟ یہ شہداء اُمّت کی تاریخ کا روشن باب ہیں‘ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اُمّت کی تاریخ کے کسی باب کو اس وجہ سے حذف کرنے کی جسارت کرے کہ اس میں اُس کا تذکرہ یا اُس کی تصویر موجود ہے۔

دراصل ان شہداء نے اپنے خون سے شجرِ اسلام کی آبیاری کی ہے‘ اپنے لہو کی روشنائی سے اُمّت کی تاریخ رقم کی ہے۔ اس نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو آنے والی نسلوں کو ان روشن نمونوں کے تذکروں سے محروم کر کے لا حق ہو سکتا ہے۔
یہ تذکرہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کا ہو یا خلفائے راشدین المہدیین اور دیگر صحابہء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یا پھر سعد  ؓ    مصعب ؓ   حمزہ ؓ   قعقاع ؓ   عاصم ؓ  مقدادؓ  نعمان ؓ   عِکرمہ  ؓ   خالدؓ  ابو عبیدہ ؓ جیسے جوانوں کا___ اپنی جوانیاں اللہ کے لئے لٹا دینے والوں کا یہ تذکرہ ہمیشہ سے اپنے اندر بہتے میٹھے آبشار کی سی حیات آفریں لذت رکھتا ہے۔
ان صالحین کا تذکرہ کوئی جائیداد نہیں ہے جس کی وراثت کا حق صرف ان کے لواحقین ہی کو ہو ۔یہ کوئی ایسا مال بھی نہیں ہے جسے محض کسی خیراتی ادارے کی ملکیت میں دے دیا جائے کہ وہ اس کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں ۔ یہ تذکرہ تو ایک زندہ تاریخ ہے جو ان کی ملکیت سے نکل کر اُمت کی میراث قرار پا چکی ہے جس سے آنے والی نسلیں عظمت و سر بلندی کی منزلوں کے سراغ پائیں گی۔

ان میں سے ہر کوئی ریاکاری کے ڈر سے اپنے بارے میں کچھ تحریر نہ کرنے کی تاکید کر رہا ہے‘ تاکہ اس کی خلوصِ نیت اور مقصد کے ساتھ للہیت کسی بھی بیرونی آمیزش سے مبرا رہے۔ مگر کیا ان لوگوں کے اس اندیشے کے پیشِ نظر روشنی و نور کے اس کارواں کو اندھیاروں کے سپرد کرنا جائز قرار پائے گا؟ہرگز نہیں!

میرے لیے کس قدر دشوار ہے کہ ثانوی اسکول سے فارغ التحصیل اس نوجوان کے بارے میں کچھ تحریر کرنے سے باز رہوں جس کے ساتھ بیٹھ کر مجھے ہمیشہ یوں معلوم ہوتا گویا میں علم و عمل کے ایک پیکر سے محو گفتگو ہوں۔اب ابو مسلم صنعانی  ؒ بھی اسی نوعیت کی ایک وصیت کے ساتھ نمودار ہوتے ہوئے  گویا ہم سے کہتے ہیں کہ ہم ملت ِاسلامیہ کی تاریخ کا ایک تاب ناک اور روشن باب اکھاڑ پھینکیں ۔وہ اُجلا باب جس کے ایک ایک لفظ سے مقصد کے لیے جان دینے کا سبق ملتا ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ شہداء  کا تذکرہ کرنا تو درحقیقت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی عین تعمیل ہے:

فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ ۚ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ  (النساء : ۸۴ )

پس آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئے‘ آپ سوائے اپنی جان کے کسی کے ذمے دار نہیں اور مسلمانوں کو ﴿جہاد کی﴾ ترغیب دے دیجئے۔

ہمارے شہداء شاید بھول گئے...

 کاش ہمارے یہ شہداء جانتے کہ ان کے تذکرے ‘خود ان کے لئے کس قدر خیر من اللہ کے ضامن بن  سکتے  ہیں اور کتنا اجر اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کی قبروں میں ان کے قصوں کے بسبب پہنچانا ہے تو وہ ایسی وصیتوں سے باز رہتے۔


کتنے ہی مردہ دل ہیں جنھیں ان شہداء کے قصّوں نے نئی زندگی مرحمت کی ہے۔ کتنے ہی جوان ہیں جنھیں کسی شہید کی روشن سیرت کا تذکرہ راہِ جہاد پر لے آیا۔ اور کتنے ہی گنہ گار ہیں جنھیں ان سچی کہانیوں نے اپنے ربّ کی چوکھٹ پر لا کھڑا کیا ۔ خوب کہا ہے کسی نے کہ شہیدوں کی باتیں نسلوں کو زندگی دیتی ہیں اور قیدیوں کی خاطر جاں نثاری کے شوق کو بھڑکاتی ہیں۔ ہمارے بھائی شاید بھول گئے کہ:

مَنْ سَنَّ فِي الْاِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَلَه، اَجْرُهَا، وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَه ، مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِهِمْ شَيْئٌ

جس نے اسلام میں دوسروں کے لیے ایک نمونہ قائم کیا اس کے لیے نہ صرف اپنے عمل میں سے اجر ہے بلکہ ہر اس شخص کے عمل میں بھی اس کے لیے اجر لکھا جاتا ہے جو اس کی پیروی کرے ، بغیر اس کے کہ پیروی کرنے والے کے اجر میں کوئی کمی کی جائے ۔

﴿رواہ مسلم، کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ أو کلمۃ طیبۃ، وأنھا حجاب من النار﴾


 کتنے ہی نوجوان تھے جو عبدالوھاب حامدی شہید کی وصیت سے راہ جہاد کے مسافر بنے۔جب میں نے ابو مسلم صنعانی کی وصیت سنی تو میں نے اپنے دل میں فیصلہ کر لیا کہ ان کے بارے میں ضرور لکھوں گا او رجب قیامت کے دن ہم اکٹھے ہوں گے تو میں اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کروں گا : پروردگار تیرا یہ بندہ ابو مسلم صنعانی چاہتا تھا کہ اس کے بارے میں کچھ تحریر نہ کر کے لوگوں کو نیکی و بھلائی کے سرچشمے سے محروم کر دیا جائے۔یہ چاہتا تھا کہ اہلِ ایمان کو جہاد کی تلقین کرنے اور معروف کا حکم دینے سے روک دیا جائے صرف اس لیے کہ ایسے ہر اقدام میں اس کا تذکرہ شامل ہے ۔

  >>--کتاب سے ماخوذ -- <<  
جنہیں جنتوں کی تلاش تھی
صفحہ نمبر ۴۳ سے ۶۴

Saturday, February 25, 2012

عربی نشید ویڈیو اردو ترجمے کے ساتھ

 
پیش خدمت ہے 

عربی نشید ویڈیو

ماضٍ كَالسيف كالريح كالموج غزارة

اردو ترجمہ کے ساتھ


 

ڈاؤن لوڈ لنکس

High Quality 83 MB

password

ghazwaehindUrduBlog

part 2



دعاؤں کے طلب گار
غزوہ ہند بلاگ

Friday, February 24, 2012

موبائل فرنچائز پر حملے اور ان کے نتائج



الحمدللہ رب العالمین ، والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم

۳۱ جنوری ۲۰۱۲ کے روز کراچی کے علاقے ناظم آباد میں موبائل فرنچائز پر مسلح نقاب پوشوں کے حملے میں فرنچائز کے تین ملازمین ہلاک ہوگئے ، اس  حملے سے قبل گذشتہ دو ماہ میں موبائل فرنچائز پر دو حملے ہوچکے ہیں اور یہ اس نوعیت کا  تیسرا واقعہ تھا ۔  ان واقعات کے بعد مجاہدین کو مطعون کرنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا  اور دجالی میڈیا کے دہانوں نے دروغ گوئی اور  الزامات کے گولے اگلنا شروع کر دیے ۔ اگرچہ مجاہدین سے تعلق اور ہمدردی رکھنے والے افراد کے لیے یہ  یقین کرنا مشکل ہے  کہ ان حملوں کے پیچھے مجاہدین کا ہاتھ ہو سکتا ہے لیکن حملوں کی نوعیت اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے انہیں بھی  تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے ۔  جب کہ اس  پریشان کن صورتحال کے بعد مجاہدین کی طرف سےہمیں  کوئی خاطر خواہ اقدام ہوتا نظر نہیں آیا ۔



ان حملوں کے بعد جو نئے سوالات جنم لے رہے ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں :::
کیا ان حملوں کے پیچھے واقعی مجاہدین ملوث ہیں
کیا موبائل فرنچائز کو ہدف بنانا جائز ہے
کیا موبائل فرنچائز میں کام کرنے والے ملازمین کو ہلاک کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے
اور اس سے آگے بڑھ کہ یہ کہ موبائل فرنچائز پر حملوں کا اصل مقصد کیا ہے
کیا موبائل کمپنیاں اسلام کے خلاف بر سر جنگ  ہیں اور انہیں اسی طرح ختم کرنا ضروری ہے
یا موبائل کمپنیوں سے بھاری رقوم حاصل کرنا ہی ہدف تھا جیسا کہ دجالی میڈیا میں مجاہدین پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے

یہ تو وہ عمومی سوالات ہیں جو لوگوں کے ذہن میں ہیں اور وہ اکثر اس پر گفتگو کر بھی لیتے ہیں ۔ لیکن غزوہ ہند بلاگ کے منتظمین اپنے ذہن میں کچھ اور سوالات بھی رکھتے ہیں :

سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ مجاہدین کے قائدین کی طرف اس قسم کے واقعات کی روک تھام اور سدباب کے لیے عملا کوئی اقدام کیوں نظر نہیں آتا ۔ فرض کیجیے کہ یہ واقعات مجاہدین کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں تو ان واقعات کے بعد فوری طور پر یا چلیں کچھ عرصے بعد ہی کوئی تردیدی یا مذمتی بیان کیوں نہیں نشر کیا جاتا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ناکافی ہے کہ ہر حملے کے برعکس اس نوعیت کے حملوں کی تصدیق نہ کروائی جائے ۔

اخبارات اور ٹیلی وژن پر جھوٹ نشر کرنے والے تمام ادارے اس وقت  اسلام کے خلاف کھل کر جنگ میں مصروف ہیں۔اور وہ اس قسم کے واقعات میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے کہیں سے کہیں جا پہنچتے ہیں ۔ ایسے میں ایک سادہ اور عام مسلمان جس تک مجاہدین کی بازگشت بھی نہ پہنچتی ہو اس کے لیے اس پر یقین کر لینے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہوتا ۔

اگر ان حملوں کے پیچھے واقعی مجاہدین کے کوئی خفیہ مقاصد ہیں تو انہیں اتنی اخلاقی جرات کا مظاہرہ ضرور کرنا چاہیے کہ جس طرح دیگر حملوں کے بعد مجاہدین کی طرف سے تصدیق کر دی جاتی ہے تو ان واقعات کی بھی تصدیق کر دی جائے اور ان کے  بارے میں جو ضروری وضاحتیں ہوں وہ متصلا بعد میں نشر کردی جائیں ۔ہم جانتے ہیں کہ الحمدللہ ۔۔۔ مجاہدین انٹرنیٹ پر پہلے سے کئی گنا زیادہ مضبوط ہیں اور ان کا آپس کا رابطہ انٹرنیٹ کے ذریعے کسی نہ کسی حد تک بحال رہتا ہے ۔ لہٰذا ایسے واقعات کے بعد گہری رات کی طرح خاموشی کچھ عجیب معلوم ہوتی ہے ۔ یہ تحریر لکھنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ مجاہدین کی قیادت کی توجہ اس طرف مبذول کروائی جائے تاکہ وہ اس کا مناسب روک تھام اور ایسے کسی واقعے کے بعد کی صورتحال کا سدباب کر سکیں ۔

ایک مختصر وضاحت
غزوہ ہند بلاگ پر مجاہدین کے حوالے سے پہلے بھی چند تنقیدی تحاریر نشر کی جاچکی ہیں ۔ جنہیں انٹرنیٹ کے دیگرجہادی  حلقوں میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا ۔ ہماری نظر میں اس کی وجہ دعوتی مقاصد میں دائرہ کار کا فرق ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر جہادی ویب سائٹس اور فورمز دعوتی اثر رکھنے کے بجائے مجاہدین کے درمیان محض ربط کا کام کر رہے ہیں اور شایدانہوں نے  اپنے لیے یہی ایک کام متعین کر لیا ہے ۔ فیس بک سے متعلق ایک سابقہ تحریرمیں ( جو غزہ ہند بلاگ میں پوسٹ کی گئی تھی ) اس بارے میں  پہلے بھی اشارتاً عرض کیا جا چکا ہے ۔یہ کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے لیکن یہ وضاحت اس لیے پیش کی جارہی ہے کیوں کہ بعض اوقات دو ہم مقصد ادارے اور افراد بھی جو اپنے لیے مختلف دائرہ کار طے کر چکے ہوں ان کے درمیان کسی ایک مسئلہ  کو یکساں اہمیت حاصل نہیں ہوپاتی ۔امید ہے کہ وہ مجاہد ساتھی جو دعوتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ، موبائل فرنچائز پر ہونے والے واقعات کے بارے میں تشویش ضرور رکھتے ہوں گے۔

چلیے کچھ دیر کے لیے ہم قیادت کی طرف سے یہ عذر قبول کرلیتے ہیں کہ اس وقت وہ نامناسب حالات میں اس قدر گھر چکے ہیں کہ ان کے لیے فی الحال ممکن نہیں رہا کہ وہ پاکستان میں ہونے والے تمام واقعات اور ان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں تجزیہ  مکمل کر سکیں ۔لہٰذا ایسے میں انٹرنیٹ فورمز اور دیگر ویب سائٹس پر کام کرنے والے مجاہدین کو یہ خالی جگہ پر کرنی ہوگی ۔اور اہلیت اور قابلیت رکھنے والے افراد پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں یہ کام سونپا جانا چاہیے ۔

موبائل فرنچائز پر ہونے والے حملوں کے بارے میں تحریر لکھنا ابھی باقی ہے ، اور یہ اسی وقت مکمل ہوگی جب اس پر تبصرے آنے شروع ہوں گے ۔