Subscribe:

Friday, February 24, 2012

موبائل فرنچائز پر حملے اور ان کے نتائج



الحمدللہ رب العالمین ، والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم

۳۱ جنوری ۲۰۱۲ کے روز کراچی کے علاقے ناظم آباد میں موبائل فرنچائز پر مسلح نقاب پوشوں کے حملے میں فرنچائز کے تین ملازمین ہلاک ہوگئے ، اس  حملے سے قبل گذشتہ دو ماہ میں موبائل فرنچائز پر دو حملے ہوچکے ہیں اور یہ اس نوعیت کا  تیسرا واقعہ تھا ۔  ان واقعات کے بعد مجاہدین کو مطعون کرنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا  اور دجالی میڈیا کے دہانوں نے دروغ گوئی اور  الزامات کے گولے اگلنا شروع کر دیے ۔ اگرچہ مجاہدین سے تعلق اور ہمدردی رکھنے والے افراد کے لیے یہ  یقین کرنا مشکل ہے  کہ ان حملوں کے پیچھے مجاہدین کا ہاتھ ہو سکتا ہے لیکن حملوں کی نوعیت اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے انہیں بھی  تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے ۔  جب کہ اس  پریشان کن صورتحال کے بعد مجاہدین کی طرف سےہمیں  کوئی خاطر خواہ اقدام ہوتا نظر نہیں آیا ۔



ان حملوں کے بعد جو نئے سوالات جنم لے رہے ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں :::
کیا ان حملوں کے پیچھے واقعی مجاہدین ملوث ہیں
کیا موبائل فرنچائز کو ہدف بنانا جائز ہے
کیا موبائل فرنچائز میں کام کرنے والے ملازمین کو ہلاک کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے
اور اس سے آگے بڑھ کہ یہ کہ موبائل فرنچائز پر حملوں کا اصل مقصد کیا ہے
کیا موبائل کمپنیاں اسلام کے خلاف بر سر جنگ  ہیں اور انہیں اسی طرح ختم کرنا ضروری ہے
یا موبائل کمپنیوں سے بھاری رقوم حاصل کرنا ہی ہدف تھا جیسا کہ دجالی میڈیا میں مجاہدین پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے

یہ تو وہ عمومی سوالات ہیں جو لوگوں کے ذہن میں ہیں اور وہ اکثر اس پر گفتگو کر بھی لیتے ہیں ۔ لیکن غزوہ ہند بلاگ کے منتظمین اپنے ذہن میں کچھ اور سوالات بھی رکھتے ہیں :

سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ مجاہدین کے قائدین کی طرف اس قسم کے واقعات کی روک تھام اور سدباب کے لیے عملا کوئی اقدام کیوں نظر نہیں آتا ۔ فرض کیجیے کہ یہ واقعات مجاہدین کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں تو ان واقعات کے بعد فوری طور پر یا چلیں کچھ عرصے بعد ہی کوئی تردیدی یا مذمتی بیان کیوں نہیں نشر کیا جاتا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ناکافی ہے کہ ہر حملے کے برعکس اس نوعیت کے حملوں کی تصدیق نہ کروائی جائے ۔

اخبارات اور ٹیلی وژن پر جھوٹ نشر کرنے والے تمام ادارے اس وقت  اسلام کے خلاف کھل کر جنگ میں مصروف ہیں۔اور وہ اس قسم کے واقعات میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے کہیں سے کہیں جا پہنچتے ہیں ۔ ایسے میں ایک سادہ اور عام مسلمان جس تک مجاہدین کی بازگشت بھی نہ پہنچتی ہو اس کے لیے اس پر یقین کر لینے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہوتا ۔

اگر ان حملوں کے پیچھے واقعی مجاہدین کے کوئی خفیہ مقاصد ہیں تو انہیں اتنی اخلاقی جرات کا مظاہرہ ضرور کرنا چاہیے کہ جس طرح دیگر حملوں کے بعد مجاہدین کی طرف سے تصدیق کر دی جاتی ہے تو ان واقعات کی بھی تصدیق کر دی جائے اور ان کے  بارے میں جو ضروری وضاحتیں ہوں وہ متصلا بعد میں نشر کردی جائیں ۔ہم جانتے ہیں کہ الحمدللہ ۔۔۔ مجاہدین انٹرنیٹ پر پہلے سے کئی گنا زیادہ مضبوط ہیں اور ان کا آپس کا رابطہ انٹرنیٹ کے ذریعے کسی نہ کسی حد تک بحال رہتا ہے ۔ لہٰذا ایسے واقعات کے بعد گہری رات کی طرح خاموشی کچھ عجیب معلوم ہوتی ہے ۔ یہ تحریر لکھنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ مجاہدین کی قیادت کی توجہ اس طرف مبذول کروائی جائے تاکہ وہ اس کا مناسب روک تھام اور ایسے کسی واقعے کے بعد کی صورتحال کا سدباب کر سکیں ۔

ایک مختصر وضاحت
غزوہ ہند بلاگ پر مجاہدین کے حوالے سے پہلے بھی چند تنقیدی تحاریر نشر کی جاچکی ہیں ۔ جنہیں انٹرنیٹ کے دیگرجہادی  حلقوں میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا ۔ ہماری نظر میں اس کی وجہ دعوتی مقاصد میں دائرہ کار کا فرق ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر جہادی ویب سائٹس اور فورمز دعوتی اثر رکھنے کے بجائے مجاہدین کے درمیان محض ربط کا کام کر رہے ہیں اور شایدانہوں نے  اپنے لیے یہی ایک کام متعین کر لیا ہے ۔ فیس بک سے متعلق ایک سابقہ تحریرمیں ( جو غزہ ہند بلاگ میں پوسٹ کی گئی تھی ) اس بارے میں  پہلے بھی اشارتاً عرض کیا جا چکا ہے ۔یہ کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے لیکن یہ وضاحت اس لیے پیش کی جارہی ہے کیوں کہ بعض اوقات دو ہم مقصد ادارے اور افراد بھی جو اپنے لیے مختلف دائرہ کار طے کر چکے ہوں ان کے درمیان کسی ایک مسئلہ  کو یکساں اہمیت حاصل نہیں ہوپاتی ۔امید ہے کہ وہ مجاہد ساتھی جو دعوتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ، موبائل فرنچائز پر ہونے والے واقعات کے بارے میں تشویش ضرور رکھتے ہوں گے۔

چلیے کچھ دیر کے لیے ہم قیادت کی طرف سے یہ عذر قبول کرلیتے ہیں کہ اس وقت وہ نامناسب حالات میں اس قدر گھر چکے ہیں کہ ان کے لیے فی الحال ممکن نہیں رہا کہ وہ پاکستان میں ہونے والے تمام واقعات اور ان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں تجزیہ  مکمل کر سکیں ۔لہٰذا ایسے میں انٹرنیٹ فورمز اور دیگر ویب سائٹس پر کام کرنے والے مجاہدین کو یہ خالی جگہ پر کرنی ہوگی ۔اور اہلیت اور قابلیت رکھنے والے افراد پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں یہ کام سونپا جانا چاہیے ۔

موبائل فرنچائز پر ہونے والے حملوں کے بارے میں تحریر لکھنا ابھی باقی ہے ، اور یہ اسی وقت مکمل ہوگی جب اس پر تبصرے آنے شروع ہوں گے ۔

4 تبصرے:

فاروق said...

عرفان بھائی خاتون کی تصویر نظر آرہی ہے ۔ اچھا نہیں لگ رہا وہ ہٹا دیں

عرفان بلوچ said...

واقعی ، خاتون کی تصویر کی طرف توجہ نہیں گئی ۔ ان شاء اللہ جیسے ہی ممکن ہوا تصویر ہٹا دی جائے گی

Anonymous said...

Irfan bhai
MashAllah say Khatoon ki tasweer bhi nazar arahi hai
is say pata chalta hai k ap mein kitna taqwa hai
khair Bad Gumani say Allah bachaye
mumkin to yahi hai k jald edit karkay del kardi jaye

فاروق said...

جزاک اللہ بھائی اب ٹھیک ہے

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ