Subscribe:

Tuesday, March 6, 2012

زنجبار میں یمنی فوج کا بھاری نقصان


زنجبار ۔ یمن
 ۶  مارچ    ۲۰۱۲

اللہ اکبر !!! اللہ اکبر !!!

یمن کے جنوبی صوبے ابین کے علاقے زنجبار میں مجاہدین نے مرتد یمنی افواج کے خلاف ایک بہت بڑی کارروائی سر انجام دی ہے ۔ اللہ کی نصرت سے ہمارے یمنی مجاہد بھائیوں نے اس معرکہ میں مرتدین کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کر دیااور زندہ بچ جانے والے درجنوں فوجیوں کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئے ۔

فوجی حکام اور مقامی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے فوج کے بھاری نقصان کی تصدیق کر دی ہے ۔ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد ایک سے سات (۱۰۷) ہے جو اخباری ذرائع سے معلوم ہو  سکی ہے ۔ ان اخباری ذرائع نے اس خوں ریز لڑائی میں بتیس (۳۲) مجاہدین کے شہید ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔اللہ پاک ہمارےتمام شہداء کی میزبانی فرمائیں ۔۔۔۔آمین۔۔۔

[        یہ خبر بلاگ پر پوسٹ ہونے سے قبل الجزیرہ نے تعداد میں اضافہ کرتے ہوئےمزید  بتایا کہ یمنی فوج کے بڑے افسران نے اب تک مختلف علاقوں سے ایک سو پچاسی (۱۸۵)  سپاہیوں کی لاشیں ملنے کی تصدیق کردی ہے                 ]
الحمدللہ کثیرا !!!!

ہمارے یہ مجاہد ساتھی معرکہ کے بعد قریبی شہر جعار پہنچے جہاں اس شاندار فتح پر عامۃ المسلمین نے ان کا  تکبیر کے نعروں سے والہانہ استقبال کیا ۔ یاد رہے کہ جعار ابین کا وہ شہر ہے جہاں گذشتہ ایک سال سے مجاہدین کا مکمل قبضہ ہے ۔یہ شہر زنجبار سے پندرہ کلو میٹر شمال  میں واقع ہے ۔  مجاہدین نے میگا فون کے ذریعے جعار میں ،  زنجبار کی فتح کے اعلانات نشر کیے اور گرفتار فوجیوں کو یہاں کی سڑکوں پر پریڈ مارچ کروایا گیا ۔




یمنی فوجیوں کی بغاوت اور مجاہدین کے لیے جاسوسی

یمنی صحافی ، حاکم مسمری نے الجزیرہ ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں اپنے بااعتماد ذرائع سے معلوم ہوا  ہے اور ان کے پاس اس کےواضح  ثبوت موجود ہیں کہ بڑےعہدوں پر تعینات بعض یمنی فوج کے  حکام نے القاعدہ کی ذیلی تنظیم ، انصارلشریعہ کے مجاہدین کو اہم خفیہ معلمومات فراہم  کی تھیں کہ اس فوجی اڈے پر کہاں اور کس وقت حملہ کرنا ہے ۔

دیکھیے یو ٹیوب لنک
Yemeni journalist Hakim al Masmari says Yemeni officials tipped fighters off

یمن میں مجاہدین کی قوت
یمن میں مجاہدین کی قوت اور اعلیٰ عسکری صلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ،مجاہدین نے منصور ہادی کی تقریب حلف برداری کے موقعہ پر بھی صدارتی محل کے باہر حملہ کیا تھا ۔

علی  عبداللہ صالح کے تینتیس (۳۳) سالہ اقتدار کے خاتمہ کےبعد  ۲۳ فروری ۲۰۱۲ کو  عبد ربہ منصور ہادی نےصدر کے عہدہ کا حلف اٹھایا اور  باقاعدہ طور پر زمام کار سنبھالی ۔ اس روز صدارتی محل کے باہر  اس نے القاعدہ کے خلاف جنگ جاری رکھنے عندیہ دیتے ہوئے یمنی عوام سے اپیل کی کہ آپ لوگ  القاعدہ کے خلاف جنگ میں یمن کی حکومت کا ساتھ دیں۔ عین اس وقت جب صدارتی محل کے باہر  یہ تقریب جاری تھی ہمارے ایک استشہادی بھائی نے سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود اللہ کی نصرت سے ایک کامیاب  شہیدی کارروائی کر کے چھبیس (۲۶) مرتد فوجیوں کے لیے تابوت کا آرڈر بک کروا دیا  ۔

وللہ الحمد المنۃ !!!

کاش کہ پاکستانی مرتد افواج اس سے کچھ سبق سیکھنے کی کوشش کریں       ۔۔۔

5 تبصرے:

غازی صلاح الدین said...

اللہ اکبر

اللہ کا شکر ہے جس نے جزیرۃ العرب کی القاعدہ کی مدد فرمائی
جزاک اللہ ! اس خبر نے دل میں ٹھنڈ اتار دی

عرفان بلوچ said...

راشد خاکی آپ کے نزدیک علماء کی دنیا صرف درباری و سرکاری علماء تک ہی محدود ہے توآپ کو اپنی معلومات میں اضافہ کرلینا چاہیے

بحث تو موجودہ زمانے کے علماء کے بارے میں تھی بھی نہیں ، کفار کے ساتھ دوستی پر ارتداد کا فتویٰ تو قدیم زمانے سے موجود ہے ، جس پر قدیم علماء کا اختلاف نہیں ملتا ، آپ جیسے مرجئہ فرقے کے داعی اگر تھے بھی تو ان علماء کے مقابلے میں ان کا اثر کیا ہوگا ؟؟؟

Anonymous said...

lol irfan bhai meri post ko to Approve bhi nahi kiya or uper say apnay pata nahi kesa ulta seedha comment kardiya.
meinay jo post mein sawalat kiye thay us per daleel paish karo.???
RASHID KHAKHI.

Anonymous said...

Irfan bhai mein 4 mahinay k liye tableegh mein janay wala hun Dua karo Allah mujhay ibadat o tahat wali zindagi ata farmaye.
RASHID KHAKI

Rana M Uusman said...

Aaap ko chahiye ke Bureaucracy,Army,Police,Politics mein apney admi bhejein ta ke Pakistan me pur aman islami inqilaab asakey.is se khuch bhi nhi hoga jo aap kar rahe hain.bal ke aap ko himayat milne ki bajaye nafrat barh rahi hai.Wasalam

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ