Subscribe:

Friday, June 29, 2012

کیا شیخ ابو یحیی ٰ شہید ہوگئے

السلام علیکم
پیارے بھائی کیا شیخ ابو یحیی ٰ شہید ہوگئے ہیں یا نہیں، امریکی کہتے ہیں کہ انہوں نے شیخ کو شہید کر دیا ہے ۔ لیکن مجاہدین کی طرف سے خاموشی ہے ، کیا آپ کے علم میں ہے ۔
ابوتراب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے اس بارے میں ابھی تک کوئی معلومات موصول نہیں ہوئیں ، آپ کی یاد دہانی پر میں معلوم کروانے کی کوشش کروں گا ، ان شاء اللہ
جہاں تک معلوم ہو سکا ہے ، وہ یہ کہ امریکی اس بارے میں کافی یقین سے کہہ رہے ہیں کہ پانچ جون کو ہونے والے ڈرون حملے میں ہم نے ابو یحییٰ کو ہی نشانہ بنایا ہے ۔
اس وقت تک تحریک طالبان پاکستان کے دو مختلف کماندانوں کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں ، ایک کہہ رہے ہیں کہ ہاں شیخ یحییٰ شہید ہو چکے ہیں اور یہ ہمارا بہت بڑا نقصان ہے ۔دوسرے کماندان کہہ رہے ہیں کہ یہ خبر غلط ہے ، کیوں کہ گاڑی تو شیخ یحییٰ ہی کی تھی ، لیکن وہ اس وقت گاڑی میں موجود نہیں تھے ۔ یہ متضاد بیانات طالبان کی طرف سے آئے ہیں ۔
لیکن القاعدہ کی طرف سے شیخ کی شہادت کی ابھی تک نہ تو تصدیق ہوئی ہے نہ ہی تردید۔  اس لیے خبر صحیح اور غلط دونوں ہو سکتی ہیں ۔ ہم تو اللہ سے التجا کر سکتے ہیں کہ یا اللہ یہ غلط ہو ۔  باب الاسلام فورم میں اس امریکی دعوے کے اٹھارہ روز بعد یعنی ۲۳ جون کو شیخ ابو یحییٰ کی ایک ویڈیو ریلیز کی گئی ، جس میں شیخ یحییٰ کے نام کے ساتھ حفظہ اللہ  ، لکھا ہوا ہے ۔اگرچہ شیخ انور العولقی شہید رحمہ اللہ کی شہادت کی خبر کے متعلق آپ کو یاد ہوگا کہ القاعدہ قیادت نے کافی عرصے کے بعد تصدیق کی تھی ۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا بھائی
عرفان بلوچ

Thursday, June 28, 2012

قیدی مجاہدین کو انتقاماً شہید کیا گیا


ہری پور
۲۷  جون  ۲۰۱۲

خبر ہے کہ تین قیدی مجاہدین کو زہریلے انجکشن دے کر شہید کر دیا گیا ہے ۔ ان تینوں کی لاشیں ہری پور کے مختلف علاقوں سے برآمد ہوئیں ۔ خفیہ ایجنسیاں ، عام طور پر اس انداز سے قیدی مجاہدین کو شہید نہیں کرتیں۔ لہٰذا اس  واقعہ کے پیچھے انتقام کا جذبہ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ ان شہداء  کی پوسٹ مارٹم رپورٹس سے معلوم ہوا کہ تینوں کی گردن یا ریڑھ کی ہڈیاں بھی ٹوٹی ہوئیں تھیں۔
یہ بات ہم تقریبا یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ان قیدیوں کو تفتیش کے دوران تشدد کرکے ہلاک نہیں کیا گیا ، کیوں کہ عام طور قیدیوں سےاہم معلومات ان کی گرفتاری  کے ابتدائی چند دنوں میں مکمل کر لی جاتی ہے، اور ان ہی دنوں میں قیدیوں پر زیادہ تشدد کیا جاتا ہے  ۔  اس کے بعد ضروری تفتیش کے لیے تشدد کا استعمال شاذ و نادر ہی ہوتا ہے ۔ اگر مزید تفتیش کے لیے تشدد کی  ضرورت ہوگی تو کسی مخصوص قیدی کے لیے ہو سکتی ہے ، بیک وقت تین قیدیوں کے لیے اتنے عرصے بعد تشدد کا ہونا محال نظر آتاہے ۔وہ بھی ایسے قیدی جو کہ مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہوں اور جنہیں مختلف اوقات میں گرفتار کیا گیا ہو ۔

یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ان تینوں شہیدوں کی لاشیں ، ہری پور کے تین مختلف داخلی راستوں سے برآمد ہوئیں ، گویا  ناپاک درندوں نے ان کی لاشوں کو ایک جگہ اکٹھا پھینکنے سے جان بوجھ کر گریز کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ وسیع علاقے تک مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیلا کر جہاد میں شرکت کرنے اورمجاہدین کا ساتھ دینے کے خوف ناک انجام سے ڈرایا جائے ۔

غور طلب  امر یہ ہے کہ اس واقعہ سے صرف ایک روز قبل طالبان کی طرف سے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو ریلیز کی گئی جس میں ان سترہ پاکستانی فوجیوں کو ذبح کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ، جنہیں چند روز قبل اپر دیر کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا ۔ہمارا گمان یہ ہے کہ ناپاک افواج نے  اپنے فوجیوں کے قتل کا انتقام لینے کے لیے ، پہلے ان قیدیوں کی گردنیں توڑ یں پھر انہیں زہریلے انجکشن دے کر شہید کیا اور ان کی لاشیں پھینک کر چلے گئے ۔

اللہ تعالیٰ ان مجاہد قیدیوں کی شہادت قبول فرما لیں

میری ناقص رائے ہمیشہ یہی رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجاہدین کو کسی معرکے میں مرتدین پر فتح عطا فرمائیں اور انہیں یہ موقعہ فراہم کریں کہ وہ ناپاک فوجیوں کو گرفتار بھی کرلیں تو مجاہدین کی پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ ان گرفتار فوجیوں کے بدلے اپنے قیدی ساتھیوں کی رہائی کی منصوبہ بندی کریں ، اگرچہ ایسا کرنا ہر موقعہ پر ضروری نہیں ۔

اللہ تعالیٰ ہماری حق کی طرف رہنمائی کریں، ہم سے راضی رہیں اور وہ کام لیں جو ہمیں جنت کے قریب لے جائے
آمین

Tuesday, June 19, 2012

آغا خان فاؤنڈیشن کے نام تحریک طالبان کا خط


آغا خان فاؤنڈیشن کے نام تحریک طالبان کا خط

کراچی سنٹرل جیل میں قید دو مجاہد ساتھیوں کو پھانسی دیے جانے کے لیے بلیک وارنٹ جاری کرنے پر تحریک طالبان کی دھمکی ۔

آغا خان فاؤنڈیشن کے چئرمین کے نام بھیجے گئے اس پیغام میں تحریک طالبان نے دھمکی دی ہے کہ اگر اعظم اور عطاء اللہ کو پھانسی دی گئی تو وہ آغا خانی کمیونٹی کے خلاف کارروائی پر مجبور ہوں گے ۔ کیوں کہ ان مجاہد ساتھیوں کو جس مقدمہ پر سزا دی جارہی ہے اس کی فائل کمیونٹی ممبر کی حیثیت سے جمع کروائی گئی تھی لہٰذا  یہ معاملہ ایک فرد کا نہیں بلکہ درحقیقت پوری آغا خانی کمیونٹی کا ہے ۔

طالبان نے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے پر جن مقامات پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے ان میں

 آغا خانی عبادت گاہیں
آغا خان ہسپتال انتظامیہ اور آغا خان لیبارٹری اور کلیکشن سینٹرز
آغا خانی رہائش گاہیں
جماعت خانے
اور آغا خانی کمیونٹی سینٹرز شامل ہیں ۔

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

خط کا اصل متن درج ذیل ہے


To,   
                                                               
·       Chairman / President of Agha Khan Foundation
·       Any concerned / relevant authority.


Subject:  Death /Black Warrant of Azam and Atta ullah (Karachi Central Jail)


This letter has been written by Tehreek-e- Taliban Pakistan to Chairman / President of Agha Khan Foundation / Community.

Reference to the subject, a week ago death warrant of two of our companions has been issued by Government of Pakistan. There names are Azam and Atta ullah and the date of death warrant is 26-06-2012.

The reference of murder in area of soldier Bazar against the above two persons was filed by one of your community member. So now this is not a matter of just one person, in reality it’s a matter of whole community.

We demand that Agha khan foundation / community should immediately force the applicant / applicant family to do the following

·       Withdraw this case.
·       Forgive the two persons as the above two persons are innocent and they had not   committed any murder.
·       Contact to the lawyer, and meet with Jail SP to resolve the matter by involving the two prisoners.
·       Write in words to High Court and Supreme Court that the applicant / applicant family has forgiven the two prisoners.

We hope that you will resolve this matter on emergency basis and the last date for fulfill our demands is 23-06-2012.In case you fail to fulfill the above four demands before 23-06-2012 then prepare yourselves for the consequences.

We have gathered all the necessary information about the following centers of Agha Khan Foundation all around the country.

·       Business centers
·       Agha Khan Hospital and its collection centers
·       Residential Areas including homes and flats.
·       Prayer Halls ( Jamat Khana)
·       Community centers.

In case our two companions are not freed from Karachi central jail then we will start killing persons of your community especially businessmen, doctors and other professionals. Moreover we will start exploding your Prayer Halls (Jamat Khana) and business / residential centers.
The decision is up to you now and do not consider this a fake threat. There is no need to tell you that we are capable of exploding any of your above centers as we have all the resources and infrastructure.

It’s in your best interests that do not contact Police, any government department or any intelligence agency. It’s only a waste of time. The government or relevant departments cannot prevent you from the damage by the will of Allah Almighty. The intelligence agencies and the relevant government departments will try to deceive you and will offer you security for not compromising with us but keep this thing in mind that these government departments cannot protect themselves from our attacks then how can they protect you.

Note: You can get the complete file of this case from Jail SP of Karachi Central Jail.

                                                                                              
                                                                                                 Threek-e- Taliban Pakistan