Subscribe:

Monday, July 9, 2012

گجرات میں فوجی کیمپ پر مجاہدین کا حملہ


 ۹  جولائی   ۲۰۱۲

اللہ اکبر !!! اللہ اکبر !!!

مجاہدین نے گجرات میں ناپاک آرمی کے کیمپ پر حملہ کرکے کم از کم آٹھ مرتدین کو ہلاک کر دیا ۔پنجاب کے شہری علاقوں میں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو بلاشبہ یہ مجاہدین کا انتہائی جرات مندانہ اقدام سمجھا جائے گا ۔ کیوں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی تائید و نصرت سے اس کارروائی کو انجام دینے کے بعد مجاہدین فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے ۔ الحمدللہ ۔ کفریہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سیکیورٹی ہائی الرٹ کرتے ہوئے گردو پیش کے تمام راستوں پر ناکے لگا دیے تھے  ، لیکن مجاہدین اس سے پہلے ہی محفوظ پناہ گاہوں تک پہنچ چکے تھے ۔ تحقیقاتی ادارے کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر اس حملے کے پیچھے شدت پسند ملوث ہیں تو یہ انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے ۔

کیا گجرات حملہ شہری جنگ کی بنیاد بن سکتا ہے   ؟؟
 
اس کارروائی سے واضح ہوتا ہے کہ مجاہدین پنجاب کے بعض حصوں میں اس درجہ منظم ہوچکے ہیں کہ کارروائی کے بعد فرار بھی ہو سکتے ہیں ۔ اس اعتبار سے یہ اپنی نوعیت کی پہلی منظم کارروائی تھی کیوں کہ شہری علاقوں میں اس سے قبل کی کارروائیوں میں مجاہدین کارروائی کے بعد فرار کی کوشش نہیں کرتے تھے ۔بلکہ زیادہ تر فدائی حملہ آور کارروائیوں میں شریک ہوتے اور واپسی کے راستے بند سمجھ کر زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی رہی تھی ۔

ظاہر ہے کہ اب جنوبی اور وسطی پنجاب میں سیکیورٹی کی صوتحال مزید بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی ۔ لیکن گجرات حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال یقینا ذرا مختلف ہوگی ، تحقیقاتی اور سیکیورٹی اداروں کی بے چینی عروج پر ہی ہونی چاہیے ۔ اللہ کرے کہ گجرات حملہ ، شہری جنگ کی بنیاد سازی میں اہم کردار ادا کر سکے ۔۔۔  دوسری طرف مجاہدین کے لیے بھی ضروری ہے کہ شہری جنگ کے اصولوں کو مدنظر رکھیں اور ان کی پابندی کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرتے رہیں ۔

وللہ الحمد المنۃ !!!
یہ مرتد افواج جتنا زور لگا  لیں دنیا اور آخرت میں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا
اور
 ان شاء اللہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اس سرزمین کا مقدر بن کر رہے گا

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

0 تبصرے:

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ