Subscribe:

صبح و شام کے اذکار


بسم اللہ الرحمن الرحیم

صبح اور شام کے مسنون صحیح اذکار

آیۃ الکرسی: أعوذ بالله من الشيطان الرجيم ( الله لا إله إلا هو الحي القيوم ) سورۃ البقرة آية 255
ایک مرتبہ – صبح/شام (اور رات سوتے وقت)

سورہ البقرہ کی آخری دو آیات: أعوذ بالله من الشيطان الرجيم (آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ تا آخر)
ایک مرتبہ – صبح/شام (اور رات سوتے وقت)

سورۃ اخلاص اور فلق اور ناس – تینوں پڑھ کر ہاتھوں پر پھونک کر پورے جسم پر ہاتھ پھیر لیں (صبح شام اور رات سوتے وقت یہ عمل تین مرتبہ دہرائیں)

أعُوذُ بِكَلماتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ منْ شَرِّ ما خَلَقَ    (تین بار - صبح/شام)
میں اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں ، اس کی مخلوق کے شر سے۔

بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لاَ يَضُرُّ مَع اسْمِهِ شيء في الأرضِ ولا في السماءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعلِيمُ           (تین بار - صبح/شام)
اللہ کے نام کے ساتھ، جس کے نام کے ساتھ کوئی چیز آسمان و زمین میں نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہی سننے والا جاننے والا ہے۔

رَضيـتُ بِاللهِ رَبَّـاً وَبِالإسْلامِ ديـناً وَبِمُحَـمَّدٍ صلى الله عليه وسلم نَبِيّـاً       (تین بار - صبح/شام)
میں راضی ہو گیا اللہ کے ساتھ (اس کے ) رب ہونے پر اور اسلام کے ساتھ (اس کے) دین ہونے پراور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ان کے ) نبی ہونے پر۔

سُبْحـانَ اللهِ وَبِحَمْـدِهِ عَدَدَ خَلْـقِه ، وَرِضـا نَفْسِـه ، وَزِنَـةَ عَـرْشِـه ، وَمِـدادَ كَلِمـاتِـه (تین بار - صبح/شام)
میں‌اللہ کی پاگیزگی بیان کرتا ہوں ‌اس کی تعریفوں‌ کے ساتھ، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی ذات کی رضا کے برابر، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔

اللّهُـمَّ عافِـني في بَدَنـي، اللّهُـمَّ عافِـني في سَمْـعي، اللّهُـمَّ عافِـني في بَصَـري، لا إلهَ إلاّ أَنْـتَ، اللّهُـمَّ إِنّـي أَعـوذُبِكَ مِنَ الْكُـفرِ وَالفَـقْرِ، وَأَعـوذُبِكَ مِنْ عَذابِ القَـبْرِ، لا إلهَ إلاّ أَنْـتَ                   (تین بار - صبح/شام)
اے اللہ میرے بدن میں عافیت دے، اے اللہ میرے کانوں میں عافیت دے، اے اللہ میری آنکھوں میں عافیت دے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اے اللہ میں کفر اور فقر سے تیری پناہ پکڑتا ہوں، اے اللہ میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ پکڑتا ہوں، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
   
حَسْبِيَ اللّهُ لا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (سورۃ التوبة آية 129)         (سات بار - صبح/شام)
مجھے اللہ ہی کافی ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں‌ ، اس پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا رب ہے۔

يا حيُّ يا قيوم برحمْتك أستغيث أصلح لي شأني كله ولا تكلنِي إلَى نفسي طرفةَ عْين ابداً     (ایک مرتبہ – صبح/شام)
اے زندہ جاوید! اے قائم و دائم !‌میں‌تیری ہی رحمت کے ذریعے سے مدد طلب کرتا ہوں‌، تو میرا ہر کام سنوار دے اور آنکھ چھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کرنا۔

اللّهـمَّ أَنْتَ رَبِّـي لا إلهَ إلاّ أَنْتَ، خَلَقْتَنـي وَأَنا عَبْـدُك، وَأَنا عَلـى عَهْـدِكَ وَوَعْـدِكَ ما اسْتَـطَعْـت، أَعـوذُبِكَ مِنْ شَـرِّ ما صَنَـعْت، أَبـوءُ لَـكَ بِنِعْـمَتِـكَ عَلَـيَّ وَأَبـوءُ بِذَنْـبي فَاغْفـِرْ لي فَإِنَّـهُ لا يَغْـفِرُ الذُّنـوبَ إِلاّ أَنْتَ (یہ دعا سید الاستغفار ہے۔ ایک مرتبہ – صبح/شام)
اے اللہ تو ہی میرا رب ہے ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا فرمایا اور میں‌ تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں‌تجھ سے اس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جس کا میں نے ارتکاب کیا، میں‌تیرے سامنے تیرے انعام کا اقرار کرتا ہوں، لہذا تو مجھے معاف کر دے۔ واقعہ یہ ہے کہ تیرے سوا کوئی گناہوں‌کو معاف نہیں کر سکتا۔

اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَواتِ والأرضِ عَالمَ الغَيْب وَالشَّهَادةِ ، ربَّ كُلِّ شَيءٍ وَمَلِيكَهُ . أَشْهَدُ أَن لاَ إِله إِلاَّ أَنتَ ، أَعُوذُ بكَ منْ شَرِّ نَفسي وشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكهِ، وأن أقترف على نفسي سُوءاً، أو أجُرَّهُ إلى مسلم                     (ایک مرتبہ – صبح/شام)
اے اللہ! غیب اور حاضر کے جاننے والے! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے!‌ ہر چیز کے رب اور اس کے مالک! میں‌گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں‌۔ میں‌تیری پناہ میں آتا ہوں‌۔ اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اور اس کے شرک سے اور اس بات سے کہ اپنے ہی خلاف کسی برائی کا ارتکاب کروں ‌یا اسے کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں۔

اللّهُـمَّ إِنِّـي أسْـأَلُـكَ العَـفْوَ وَالعـافِـيةَ في الدُّنْـيا وَالآخِـرَة، اللّهُـمَّ إِنِّـي أسْـأَلُـكَ العَـفْوَ وَالعـافِـيةَ في ديني وَدُنْـيايَ وَأهْـلي وَمالـي، اللّهُـمَّ اسْتُـرْ عـوْراتي وَآمِـنْ رَوْعاتـي، اللّهُـمَّ احْفَظْـني مِن بَـينِ يَدَيَّ وَمِن خَلْفـي وَعَن يَمـيني وَعَن شِمـالي، وَمِن فَوْقـي، وَأَعـوذُ بِعَظَمَـتِكَ أَن أُغْـتالَ مِن تَحْتـي        (ایک مرتبہ – صبح/شام)
اے اللہ! بے شک میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں‌ معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں‌، اے اللہ! بے شک میں تجھ سے اپنے دین ، اپنی دنیا اور اپنے اہل و مال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں‌۔ اے اللہ! میرے عیبوں پر پردہ ڈال دے اور میری گھبراہٹوں کو امن دے۔ اے اللہ! تو میری حفاظت فرما، میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میری دائیں طرف سے، میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر سے۔ اور میں تیری عظمت کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں‌کہ ناگہاں اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں

لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، يحيي ويميت، وهو على كل شيء قدير     (دس مرتبہ – صبح/شام)
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‌، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کی بادشاہت اور اسی کی تعریف ہے، زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔

لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحْمد، وهو على كل شيء قدير
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‌، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کی بادشاہت اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔
جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ دعا پڑھے گا، اسے دس غلام آزاد کرنے برابر ثواب ملے گا ، ایک سو نیکیاں ‌لکھی جائیں گی اور اس کے سو گناہ مٹا دیے جائیں گے

سبحان الله وبحمده ‌
میں اللہ کی پاگیزگی بیان کرتا ہوں‌اس کی تعریف کے ساتھ۔
دن میں کم از کم سو مرتبہ پڑھنے والے کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں‌تو معاف ہو جاتے ہیں‌

أستغفر الله وأتوب إليه                     (دن میں 100 یا 70 مرتبہ)
میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔

اللهم صلي علي محمد وعلي ال محمد كما صليت علي ابراهيم وعلي ال ابراهيم انك حميد مجيد وبارك علي محمد وعلي ال محمد كما باركت علي ابراهيم وعلي ال ابراهيم انك حميد مجيد (دس مرتبہ – صبح/شام)

ہر نماز کے بعد سبحان الله  دس مرتبہ، الحمد الله دس مرتبہ، الله اکبر دس مرتبہ (بعض روایات میں 33 مرتبہ)، اور ساتھ ایک مرتبہ: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهوعلى كل شيء قدير
(اور رات سوتے وقت بھی تینوں تسبیحات 33 مرتبہ اور ساتھ ایک مرتبہ مذکورہ کلمہ پڑھیں)


صبح کے اذکار

أصبحنا على فطرة الإسلام وعلى كلمة الإخلاص وعلى دين نبينا محمد وعلى ملة أبينا إبراهيم حنيفاً مسلماً وما كان من المشركين
(تین مرتبہ – صبح)
ہم نے فطرت اسلام ، کلمہ اخلاص ، اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اوراپنے باپ ابراہیم علیہ السلام جو یک رخ اور فرماں بردار تھے کی ملت پر صبح کی اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔

اللّهُـمَّ إِنِّـي أَصْبَحْتُ أَُشْـهِدُكَ، وَأُشْـهِدُ حَمَلَـةَ عَـرْشِـكَ، وَمَلائِكَتِكَ، وَجَمـيعَ خَلْـقِكَ، أَنَّـكَ أَنْـتَ اللهُ لا إلهَ إلاّ أَنْـتَ وَحْـدَكَ لا شَريكَ لَـكَ، وَأَنَّ ُ مُحَمّـداً عَبْـدُكَ وَرَسـولُـكَ                   (چارمرتبہ – صبح)
اے اللہ میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرا عرش اٹھانے والوں کو، تیریے فرشتوں کو اور تیری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے اور تیرس علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو اکیلا ہو اور تیرا کوئی شریک نہیں اور بے شک محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔

اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبحْنَا وبِكَ أَمسَيْنَا وبِكَ نَحْيا، وبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ    (ایک مرتبہ – صبح)
اے اللہ! تیری حفاظت میں ‌ہم نے صبح کی اور تیری حفاظت میں‌ ہی شام کی اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں اور تیری ہی طرف اٹھ کر جانا ہے۔

أَصْبحْنَا وَأَصْبَحَ المُلْك للَّهِ، والحمْدُ للَّهِ، لاَ إِلهَ إِلاَّ اللَّه وحْدَهُ لاَ شَريكَ لَه، لهُ المُلكُ وَلَه الحمْدُ وهُوَ عَلى كلِّ شَيءٍ قدِيرٌ، ربِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا في هذا اليومِ، وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ، وأَعُوذُ بِكَ منْ شَرِّ مَا في هذا اليومِ وشَرِّ ما بَعْدَهُ، ربِّ أَعُوذُ بِكَ من الكَسَلِ، وَسُوءِ الكِبْرِ، أعوذُ بِكَ منْ عذَابٍ في النَّار، وَعَذَابٍ في القبر       (ایک مرتبہ – صبح)
ہم نے صبح کی اوراللہ کے سارے ملک نے صبح کی اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں‌، اس کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ اے میرے رب! اس دن میں جو خیر ہے اور اس کے بعد میں جو خیر ہے میں اس کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور اس دن کے شر سے اور اس کے بعد والے کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے میرے رب! میں‌ کاہلی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں‌۔ اے میرے رب! میں آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔

اللّهُـمَّ ما أَ صْبَحَ بي مِـنْ نِعْـمَةٍ أَو بِأَحَـدٍ مِـنْ خَلْـقِك، فَمِـنْكَ وَحْـدَكَ لا شريكَ لَـك، فَلَـكَ الْحَمْـدُ وَلَـكَ الشُّكْـر
(ایک مرتبہ - صبح)
اے اللہ! مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر جس نعمت نے بھی صبح کی ہے وہ صرف تیری طرف سے ہے، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، پس تیرے ہی لئے حمد اور تیرے ہی لئے شکر ہے۔


                                                                      شام کے اذکار

أمسينا على فطرة الإسلام وعلى كلمة الإخلاص وعلى دين نبينا محمد صلى الله عليه وسلم وملة أبينا إبراهيم حنيفا مسلما وما كان من المشركين (تین مرتبہ – شام)
 ہم نے فطرت اسلام ، کلمہ اخلاص ، اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اوراپنے باپ ابراہیم علیہ السلام جو یک رخ اور فرماں بردار تھے کی ملت پر شام کی اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔

اللّهُـمَّ إِنِّـي أَمسيتُ أَُشْـهِدُكَ، وَأُشْـهِدُ حَمَلَـةَ عَـرْشِـكَ، وَمَلائِكَتِكَ، وَجَمـيعَ خَلْـقِكَ، أَنَّـكَ أَنْـتَ اللهُ لا إلهَ إلاّ أَنْـتَ وَحْـدَكَ لا شَريكَ لَـكَ، وَأَنَّ ُ مُحَمّـداً عَبْـدُكَ وَرَسـولُـكَ                   (چارمرتبہ – شام)
اے اللہ میں نے اس حال میں شام کی کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرا عرش اٹھانے والوں کو، تیریے فرشتوں کو اور تیری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے اور تیرس علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو اکیلا ہو اور تیرا کوئی شریک نہیں اور بے شک محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔

اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وبِكَ أَصْبحْنَا، وبِكَ نَحْيا، وبِك نمُوتُ وإِلَيْكَ المَصِير     (ایک مرتبہ – شام)
اے اللہ تیری حفاظت میں ہم نے شام کی اور تیری ہی حفاظت میں‌ صبح کی اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے ہوتے اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں‌اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

أَمْسَيْنَا وأَمْسى المُلكُ للَّهِ، والحمْدُ للَّهِ، لاَ إِلهَ إِلاَّ اللَّه وحْدَهُ لاَ شَريكَ لَه، لهُ المُلكُ وَلَه الحمْدُ وهُوَ عَلى كلِّ شَيءٍ قدِيرٌ، ربِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا في هذِهِ اللَّيلَةِ، وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وأَعُوذُ بِكَ منْ شَرِّ مَا في هذِهِ اللَّيْلَةِ وشَرِّ ما بعْدَهَا، ربِّ أَعُوذُ بِكَ من الكَسَلِ، وَسُوءِ الكِبْرِ، أعوذُ بِكَ منْ عذَابٍ في النَّار، وَعَذَابٍ في القبر    (ایک مرتبہ – شام)
ہم نے شام کی اوراللہ کے سارے ملک نےشام کی اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‌۔ ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں‌، اسکی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ اے میرے رب! اس رات میں جو خیر ہے اور اس کے بعد میں جو خیر ہے میں اس کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور اس رات کے شر سے اور اس کے بعد والی کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے میرے رب! میں‌ کاہلی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں‌۔ اے میرے رب! میں آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں‌۔

اللّهُـمَّ ما أَمسى بي مِـنْ نِعْـمَةٍ أَو بِأَحَـدٍ مِـنْ خَلْـقِك، فَمِـنْكَ وَحْـدَكَ لا شريكَ لَـك، فَلَـكَ الْحَمْـدُ وَلَـكَ الشُّكْـر
(ایک مرتبہ - صبح)
اے اللہ! مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر جس نعمت نے بھی شام کی ہے وہ صرف تیری طرف سے ہے، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، پس تیرے ہی لئے حمد اور تیرے ہی لئے شکر ہے۔
                                                                          
سبحانك اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنتَ، أستغفِرُك وأتوب إليك
(یہ دعا مجلس کے اختتام پر بھی پڑھی جاتی ہے اور وضوکے بعد کی مسنون دعاؤں میں سے بھی ایک ہے)



مجاہدین کے لیے حفاظت کا انمول تحفہ
دعائے انس بن مالک رضی اللہ عنہ
یہ دعا مشہور صحابی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی ہے ، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص  ہیں ، آپ نے دس سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے ۔ انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ نے انہیں بچپن میں ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت پر مامور کر دیا تھا اور ان  کی والدہ ماجدہ کے التماس کرنے پر آپ ﷺ نے ان کو دنیا اور آخرت کی دعائے خیر سے مشرف فرمایا جس کی وجہ سے آپ نے طویل عمر پائی اور آپ کی سو سے زائد اولاد ہوئی ۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "جمع الجوامع " میں حدیث نقل کرتے ہیں کہ ابو شیخ کتاب ثواب میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں روایت کی ہے کہ ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ حجاج بن یوسف ثقفی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی بات پر حجاج آپ پر غضب ناک ہوگیا ۔ اور اس نے کہاکہ اے انس اگر تو نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نہ کی ہوتی اور امیر المومنین عبدالملک بن مروان کا خط تمہاری سفارش میں نہ آیا ہوتا کہ اس نے تمہارے ساتھ رعایت کرنے کے بارے میں لکھا ہے تو میں تمہارے ساتھ  وہ کچھ کرتا جو میرا دل چاہتا ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ! نہیں اللہ کی قسم تو ہرگز میرے ساتھ کچھ نہیں کر سکتا اور میری جانب بری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔بلاشبہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے چند کلمات کو سن رکھا ہے ، میں ہمیشہ ان کلمات کی پناہ میں رہتا ہوں اور ان کلمات کے طفیل میں کسی بادشاہ کے غلبہ اور شیطان کی برائی سے نہیں ڈرتا ۔ حجاج یہ سن کر ہیبت زدہ ہوگیا اور ایک ساعت کے بعد سر اٹھا کر کہا اے ابو حمزہ وہ کلمات مجھے سکھا دو ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں میں ہرگز وہ کلمات تمہیں نہیں سکھاؤں گا کیوں کہ تم اس کے اہل نہیں ہو ۔
جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ کے خادم حضرت ابان رضی اللہ عنہ کے استفسار پر آپ نے ان کو یہ کلمات سکھائے ۔اور کہا کہ انہیں صبح و شام پڑھا کر اللہ تعالیٰ تجھے ہر آفت سے حفاظت میں رکھے گا ۔وہ کلمات یہ ہیں ::

لَا الٰه الّا الله مُحمَّدُ الرَّسُول الله - بِسْمِ الله علیٰ  نفْسِی و دِینیْ - بسم الله علیٰ   اَهْلی و مالِیْ و وَلَدِیْ - بسم الله علیٰ  ما اَعْطَانِیَ الله - الله ُرَبِّی لا اُشْرِکُ بِهِ شَيْئاً - الله ُاکبر الله ُاکبر الله ُاکبر و اَعَزُّ و اَجَلُّ و اَعْظَمُ ممِاَّ اَخَافُ و اَحْذَرُ عَزَّ جَارُک و جَلَّ ثَنَاؤُک ولا اله غَیْرُک - اللهم اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی و مِن شَرِّ کُلِّ شَیْطَانِ مَّرِیْدِ و مِن شَرِّ کُلِّ جَبَّارِ عَنِیْدِ –
فَاِن تَوَلَّوْا فَقُل حَسْبِی الله لا اله الا هو عَلَیهِ تَوَکَّلْتُ وهو ربُّ العَرْشِ العَظِیمْ - اِنَّ وَلِیَّ ىَ الله الَّذِی نَزَّلَ الْکِتَابَ و هو یَتَولَّ الصَّالحِین –
 

7 تبصرے:

Anonymous said...

Assalam o alaikum
bhAI IS DUA MAIN FONTS CLEAR NAHI HAIN. PLEase post it in picture format or in any better font or tell me the font required to read this
Jazak Allah

ابو جمال said...

آپ اردو فونٹس والے لنک سے اردو فونٹس اتار لیں اور اپنے کمپیوٹر سے منسلک کر لیں

burningbrainkhan said...

AP MUJAHID BHAEYON PAR ALLAH SWT KI BAY SHUMAR REHMATAIN HON,ALLAH SWT JANNAT UL FIRDOS KO AP SB KA MUQADDER BNAYE..AMEEN .AP LOG ALLAH SWT KAY INTEHAI KHUSH NASEEB BANDON MA SHAMIL HAN JINKO ALLAH NA NAK MAQSAD KAY LEYE CHUN LEYA HAY ..IS DOR E GUMRAHI MA KITAAL FI SABEELILLAH BOHT BARI SA'AADAT HAY ,HAR LAMHA AP KAY LEYE DUAYN HAN ,YE MOHABBAT AUR TA'ALLUQ ALLAH RABBUL AALMEEN KAY LEYE HAY ,AGR HO SAKAY TO MUJHAY BHE DUAON MA YAD RAKHAIN AUR MERAY LEYE SHAHADAT KI DUA ZROOR KRAN..JZAKALLAH

Anonymous said...

aslam-u-alikum
irfan bahi main app say ik baat share karna chata hoon
hum khuch dost hain jo jani aur mali ture say ap ka sath hain
bat yeh hai kay hum physically ap ka sath ana chatay hain pur aisa ho pana woh ik alag masla hai
baat yeh hai k humara ik dost hai woh maa baap ka iklota hia baki mashil app khud samajtay hain us kay siwa waldain ka koi asra nahin etc
uskay liya bater kia cheez ho gi kyun kay ajj kal k mahool main raha kar nafarmani ho sakti hai farmabardari nain (woh dost tora mazbi hai pur uskay waldain aman pasand)

Anonymous said...

plz
reply as soon as possible
aur main comp kam hi istiamal karta hoon
aur yeh kitna secure hai i donot know
kia iskay ilawa bi main kul kar is pay app say bat kar sakta hoon koi masla to nahin

Anonymous said...

Check my blog http://fikreummat.blogspot.com/

Anonymous said...

salam o alaikum
ap se guzarish ha k ktabon ke refrance zaroor de dia karin E.G. book No page No & publisher place
Thanu
Ahmad

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ